انڈونیشیا کے اولڈ نرسنگ ہوم میں ہولناک آتشزدگی، 16 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
انڈونیشیا کے جزیرے سولاویسی میں بوڑھے افراد کے ایک نرسنگ ہوم میں آتش زدگی کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد ہلاک جبکہ تین زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ صوبہ شمالی سولاویسی کے دارالحکومت مناڈو میں پیش آیا۔
اے ایف پی کے مطابق شہر کی فائر اینڈ ریسکیو ایجنسی کے سربراہ جمی روٹینسولو نے بتایا کہ اتوار کی رات 8 بج کر 31 منٹ پر نرسنگ ہوم میں آگ لگنے کی اطلاع موصول ہوئی، جس پر امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں۔
حکام کے مطابق آگ لگنے کے وقت کئی بوڑھے افراد اپنے کمروں میں آرام کر رہے تھے، جس کے باعث متعدد لاشیں کمروں کے اندر سے برآمد ہوئیں۔ حادثے میں 16 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ تین افراد جھلس کر زخمی ہو گئے، جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
فائر بریگیڈ کے مطابق ریسکیو اہلکار 12 افراد کو بحفاظت عمارت سے نکالنے میں کامیاب رہے، جنہیں احتیاطی طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخمی نہیں تھے۔
مزید پڑھیںانڈونیشیا میں فحش اداکارہ کو گرفتار کرکے ملک بدر کردیا گیا؛ 10 سالہ سفری پابندی
انڈونیشیا میں قیامت خیز سیلاب: ہلاکتیں 900 سے زائد، بھوک موت بانٹنے لگی
مقامی ٹی وی چینل میٹرو ٹی وی کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آگ نے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا جبکہ مقامی افراد ایک بزرگ شخص کو عمارت سے باہر نکالنے میں مدد کر رہے تھے۔
واضح رہے کہ سترہ ہزار سے زائد جزائر پر مشتمل انڈونیشیا میں آتش زدگی کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ رواں ماہ دارالحکومت جکارتہ میں سات منزلہ عمارت میں آگ لگنے سے 22 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ 2023 میں ملک کے مشرقی حصے میں ایک نکل پروسیسنگ پلانٹ میں دھماکے سے 12 افراد جان سے گئے تھے۔
حکام کی جانب سے نرسنگ ہوم میں آتش زدگی کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سری لنکا کیساتھ ٹی20 سیریز کیلیے اسکواڈ کا اعلان اہم کھلاڑی کی واپسی Dec 28 2025 09 20 AM نرسنگ ہوم میں
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک