عمران خان اور بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ ٹو کیس میں سزا کے خلاف اپیل دائر
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: بانی تحریک انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس میں سنائی گئی سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دونوں کی جانب سے سزا کو چیلنج کرتے ہوئے باقاعدہ اپیلیں دائر کر دی گئی ہیں، جن میں عدالت سے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ قانونی ٹیم کے ذریعے دائر کی گئی ان اپیلوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ قانونی تقاضوں کے برعکس اور شواہد کی درست جانچ کے بغیر سنایا گیا۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے یہ اپیلیں وکیل خالد یوسف چوہدری کے توسط سے دائر کی گئی ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں بشریٰ بی بی کی اپیل کو ڈائری نمبر 24561 جبکہ عمران خان کی اپیل کو ڈائری نمبر 24560 الاٹ کیا گیا ہے۔
اپیلوں میں یہ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ جس گواہ کے بیان پر انحصار کیا گیا، وہ پہلے ہی برطرف ہو چکا تھا اور اس کے بیان کو بنیاد بنا کر سزا سنانا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
درخواست میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ عدالت نے وعدہ معاف گواہ کے بیان پر مکمل انحصار کیا، حالانکہ قانون کے مطابق ایسے بیان کو حتمی شہادت کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اپیل میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا اور مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد قانونی معیار پر پورا نہیں اترتے۔
اپیل کنندگان کی جانب سے مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایک ہی نوعیت کے جرم میں کسی فرد کو بار بار سزا نہیں دی جا سکتی جب کہ توشہ خانہ ٹو کیس میں یہی اصول نظر انداز کیا گیا۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسپیشل سینٹرل عدالت کو اس مقدمے کی سماعت کا قانونی اختیار حاصل نہیں تھا، جس کے باعث فیصلہ دائرہ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے دیا گیا۔
اپیل میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ صہیب عباسی کو غیر قانونی طور پر سلطانی گواہ بنایا گیا، جو مقدمے کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ بلغاری سیٹ توشہ خانہ کے قواعد کے مطابق سابق حکمران جوڑے نے اپنے پاس رکھا تھا اور اس حوالے سے کسی قسم کی بدنیتی یا قانون شکنی ثابت نہیں کی جا سکی۔
مزید کہا گیا ہے کہ مقدمہ مکمل تفتیش کے بغیر قائم کیا گیا اور اسے سیاسی بنیادوں پر آگے بڑھایا گیا، جس کا مقصد سیاسی انتقام لینا ہے۔ اپیل میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ درخواست گزار سرکاری ملازم کی قانونی تعریف میں نہیں آتے، اس لیے ان پر لاگو کیے گئے بعض قوانین کا اطلاق بنتا ہی نہیں۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی ہے کہ ان کی اپیلوں کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے بروقت پورے ہو سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عمران خان اور بشری کیا گیا ہے کہ توشہ خانہ یہ بھی میں یہ کی گئی
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔