ہم بلیک ہول میں جی رہے ہیں، کچھ ماہرِ طبیعیات ایسا کیوں سوچتے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
کچھ ماہرِ طبیعیات کا ماننا ہے کہ ہماری کائنات کسی بڑے بلیک ہول کے اندر ہو سکتی ہے۔
اگرچہ یہ بات کوئی ثابت شدہ بات نہیں بلکہ چند سائنسی مشاہدات اور نظریاتی خیالات سے جنم لینے والا تصور ہے۔ اس کے پیچھے چند اہم وجوہات ہیں جو درج ذیل ہیں:
1) بلیک ہول اور کائنات کی مماثلت
بلیک ہول کی طبیعیات اور ہماری کائنات کی توسیع میں کچھ ریاضیاتی مماثلتیں ہیں۔ کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ یہ اتفاق نہیں ہو سکتا۔
2) بگ بینگ اور بلیک ہول کی مشابہت
اسی طرح بگ بینگ میں کائنات ایک انتہائی گھنے اور گرم نقطے سے پھیلتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ بلیک ہول کے مرکز میں بھی مادہ انتہائی گھنا ہو جاتا ہے۔ اسی مماثلت کی وجہ سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ شاید ہماری کائنات کسی بڑے بلیک ہول کے اندر بنی ہو۔
3) قابلِ مشاہدہ کائنات
ہم ایک حد سے آگے کائنات کو نہیں دیکھ سکتے، کچھ لوگ اسے بلیک ہول کے ایونٹ ہورائزن سے تشبیہ دیتے ہیں جس سے آگے کی معلومات ہم تک نہیں پہنچ سکتیں۔
4) کوانٹم گریویٹی کی نامکمل سمجھ
ہم ابھی تک کششِ ثقل اور کوانٹم طبیعیات کو مکمل طور پر نہیں سمجھ پائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس خُلا کیوجہ سے مختلف عجیب و غریب نظریات سامنے آتے ہیں جن میں ’بلیک ہول میں رہنے‘ جیسا خیال بھی شامل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سری لنکا کیساتھ ٹی20 سیریز کیلیے اسکواڈ کا اعلان اہم کھلاڑی کی واپسی Dec 28 2025 09 20 AM بلیک ہول
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔