وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی قبائل کے نئے سربراہ مقرر
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
(عیسیٰ ترین)وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفرازبگٹی کو بگٹی قبائل نے قبائل کا نیا چیف مقرر کر دیا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے آبائی علاقے میں بگٹی قبائل کا جرگہ ہواجس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کو چیف آف بگٹی قبائل مقرر کردیاگیا۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کے چچازاد بھائی اس منصب پر فائز تھے ، انہیں بگٹی قبائل کا آٹھواں چیف آف بگٹی منتخب کیا گیا ہے۔
ڈیرہ بگٹی کے علاقے بیکڑ میں کل دستار بندی کی تقریب ہوگی جس میں سرفراز بگٹی کو باقاعدہ طور پر چیف آف بگٹیز کی دستار پہنائی جائےگی،تقریب میں بگٹی قبائل کے تمام چیف وڈیرے اور قبائلی معتبرین شرکت کریں گے جن میں بگٹی قبائل کے شمبانی قبیلے،کلپر قبیلے، موندرانی قبیلے ، پیروزانی قبیلے ، نوتھانی قبیلے اور ڈومب قبیلے کے چیف شامل ہوں گے۔
تقریب میں نواب اکبرخان بگٹی خاندان کے افراد بھی خصوصی طور پر شرکت کریں گے اور قبائلی روایت کے مطابق دستار بندی انجام دیں گے۔
قبائلی عمائدین نے اُن کی کامیابی اور سلامتی کے لیے دعا کی ہے۔
ڈورپھرنےسےشدیدزخمی 2 سالہ زینب کی جناح ہسپتال میں سرجری
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سرفراز بگٹی بگٹی قبائل
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔