پی ٹی آئی مقبولیت کا ڈرامہ رچا کر جھوٹا پراپیگنڈا کررہی ہے: عقیل ملک
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
اسلام آباد (آئی این پی) وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر مقبولیت کا ڈرامہ رچا کر جھوٹا پراپیگنڈا کررہی ہے‘ پی ٹی آئی کے بہت سارے سوشل میڈیا اکاﺅنٹس بھارت سے آپریٹ ہوتے ہیں، پاکستان مخالف پروپیگنڈا کو طول دینے کیلئے بھارت سے سوشل میڈیا اکاﺅنٹس آپریٹ ہوتے ہیں‘کہ عوام کے سامنے حقیقت اورحقائق موجود ہیں۔ بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ سوشل میڈیا پر پاکستان اور اس کی سالمیت کے خلاف منظم پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، پی ٹی آئی کی سیاست جھوٹ،منفی بیانیے پر مبنی ہے، یہ سیاسی میدان کی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام کے سامنے حقیقت اورحقائق موجود ہیں، تمام ترجھوٹ پر مبنی چیزوں کو پھیلایا جاتا اورعوام کی ذہن سازی کی جاتی ہے، پی ٹی آئی بہت فخر سے کہتی ہے ہم سوشل میڈیا پر بہت مقبول ہیں، پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پر زیادہ تر فیک اکانٹس ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی سوشل میڈیا اکاﺅنٹس کو درحقیقت عوامی حمایت حاصل نہیں، یہ منظم دھوکا اورفریب ہے، پی ٹی آئی سوشل میڈیا اکانٹس کی کوئی ایسی سرگرمی نہیں جو عوام کیلئے فائدہ مند ہو، پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکانٹس پر حقیقی فالوورز نہ ہونے کے برابر ہے۔بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ پی ٹی آئی کہتی ہے ہمارے ایکس پر 10ملین سے زیادہ فالوورز ہیں، ٹی آئی بتانا چاہتی ہے ان کے ایکس پر سب سے زیادہ فالوورزہیں، پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر جھوٹے فالوورز دکھاتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی سوشل میڈیا سوشل میڈیا پر عقیل ملک کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔