جیل میں عمران پر تشدد نہ قید تنہائی یا غیر انسانی حالات میں رکھا گیا ہے: انجینئر مرزا علی
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) انجینئر مرزا علی نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل میں تشدد کا سامنا ہے اور نہ ہی انہیں تنہائی کی قید یا غیر انسانی حالات میں رکھا گیا ہے، جو کہ پارٹی کی جانب سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر پیش کیے جانے والے بیانیے کے برعکس ہے۔ سینئر صحافی کے ساتھ ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا بدسلوکی سے متعلق دعوے اڈیالہ جیل میں موجود اصل صورتحال سے مطابقت نہیں رکھتے۔ عمران خان کو عام قیدیوں کے مقابلے میں غیر معمولی سہولیات حاصل ہیں۔ سابق وزیراعظم کو کسی قسم کی تنہائی میں رکھا گیا ہے اور نہ ہی انہیں جسمانی یا ذہنی اذیت دی جا رہی ہے۔ عمران خان کو جیل میں 9 بیرکوں کے برابر رہائشی جگہ فراہم کی گئی ہے۔ انہیں روزانہ کھلی فضا میں نکلنے اور دھوپ لینے کی سہولت حاصل ہے، جبکہ ان کے لیے ایک ذاتی مشقتی بھی تعینات ہے۔ عمران خان کو اپنی پسند کی خوراک فراہم کی جا رہی ہے جو عام قیدیوں کے راشن کے بجائے الگ سے تیار کی جاتی ہے، جبکہ انہیں ٹیلی ویژن اور روزانہ اخبارات تک بلا تعطل رسائی حاصل ہے۔ یہ انکشافات ایک ایسے پوڈکاسٹ میں سامنے آئے جس کی میزبانی ارشاد بھٹی نے کی، جنہیں عمومی طور پر پی ٹی آئی کے لیے نرم گوشہ رکھنے والا صحافی سمجھا جاتا ہے، جس کے باعث ان بیانات کو پارٹی کے اپنے میڈیا حلقوں میں خاص اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیانات پی ٹی آئی کے اس موقف کو کمزور کرتے ہیں جس میں عمران خان کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کو ہر ہفتے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج اور عالمی اداروں و انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھیجے گئے خطوط میں نمایاں طور پر اجاگر کیا جاتا رہا ہے۔ انجینئر مرزا علی نے عمران خان کی اہلیہ سے متعلق گردش کرنے والے دعووں کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ان معاملات میں بھی غلو اور مبالغہ آرائی سے کام لیا جا رہا ہے، جن کی کوئی ٹھوس بنیاد موجود نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: عمران خان کو جیل میں
پڑھیں:
پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
کابینہ کمیٹی برائے متعدی امراض، ڈینگی و ڈیزاسٹر منیجمنٹ کا اجلاس لاہور میں ہوا، پنجاب کے وزرائے صحت سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر نے اجلاس کی صدارت مشترکہ طور پر صدارت کی۔
اس موقع پر پنجاب کے وزرائے صحت نے کہا کہ ڈینگی کے افزائش والے اضلاع پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، صوبے بھر میں ڈینگی کی تازہ صورتحال پر قابو پانے کیلیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر نے متعلقہ افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت کی۔ انھوں نے کہا ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ جون جولائی میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں۔
خواجہ عمران نذیر نے کہا ڈینگی وائرس پر قابو پانے کے اقدامات کسی ایک محکمہ کی ذمہ داری نہیں، اقدامات کی ذمہ داری تمام اسٹیک ہولڈرز کی ہے۔
خواجہ عمران نے سی ای او ہیلتھ کو ضلعی انتظامیہ کیساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی۔
انھوں نے کہا کہ ایچ آر منیجمنٹ، والنٹیر ماڈل کو اپناتے ہوئے ڈینگی کا خاتمہ ممکن ہے، یونیورسٹی اور کالجز کے طلبہ کو انسداد ڈینگی کی کارروائیوں میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
خواجہ سلمان رفیق نے کہا ڈینگی کی بوگس سرویلنس ناقابل برداشت ہے، عوام اپنےگھروں، دکانوں اور دیگر مقامات پر صفائی کویقینی بنائیں