تعلیم کی فراہمی بڑا چیلنج‘ اڑھائی کروڑ بچے سکول سے باہر: سپیکر پنجاب اسمبلی
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
لاہور (خصوصی نامہ نگار) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے کہا ہے کہ ہر بچے کو تعلیم کی فراہمی ریاست کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ آج بھی اڑھائی کروڑ بچے سکول سے باہر ہیں۔ پنجاب حکومت نے تعلیم کا بجٹ 17 ارب روپے سے بڑھا کر 46 ارب روپے کر دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار سپیکر ملک محمد احمد خاں نے ملتان میں نجی یونیورسٹی کے کانووکیشن سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں 97 فیصد بچے زیرِ تعلیم ہیں لیکن سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے اخراجات میں واضح فرق موجود ہے، جس کے باعث سرکاری اداروں کے طلبہ کو کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ملک محمد احمد خاں نے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ملک کا مستقبل ہیں اور آپ کی ذمہ داری ہے کہ حاصل کی گئی تعلیم کو قومی ترقی، معاشی استحکام اور سماجی بہتری کے لیے بروئے کار لائیں۔قبل ازیں سپیکر پنجاب اسمبلی نے کانووکیشن میں فارغ التحصیل طلبہ و طالبات میں ڈگریاں اور اسناد تقسیم کیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ملک محمد احمد خاں نے
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔