2025ئ: چینی،سٹیل، پولٹری، کھاد، تعلیم، ٹرانسپورٹ، بجلی کارٹلز پر بڑے جرمانے
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) کمپٹیشن کمشن آف پاکستان نے سال 2025ءکے دوران کارٹلائزیشن، گٹھ جوڑ بنا کر پرائس فکسنگ کرنے اور اجارہ داری کے غلط استعمال کے خلاف کارروائیوں کی تفصیلات جاری کردیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چینی، سٹیل، پولٹری، کھاد، تعلیم، ٹرانسپورٹ، اشتہارات، بجلی کی فراہمی اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں مو ثر اور سخت کارروائیاں کی گئی ہیں۔ کمپٹیشن کمیشن نے پنجاب کی دس شوگر ملز کو شوکاز نوٹس جاری کیے ہیں۔ ان ملوں نے ممکنہ طور پر کرشنگ شروع کرنے میں تاخیر کی اور گنے کی قیمت 400 روپے فی من مقرر کرنے کے لیے کارٹل بنایا۔ سٹیل کے سیکٹر میں کارٹل بنا کر مارکیٹ کو کنٹرول کرنے پر عائشہاسٹیل ملز لمیٹڈ اور انٹرنیشنل سٹیلز لمیٹڈ پر مجموعی طور پر ڈیڑھ ارب روپے کا جرمانہ کیا گیا، انکوائری کے مطابق دونوں سٹیل کمپنیوں نے کارٹل بنا کر کاروباری حساس معلومات کے تبادلے کے ذریعے تین برس میں سٹیل کی قیمتوں میں اوسطاً 111 فیصد اضافہ کیا۔ تعلیم کے شعبے میں اپنی کاروباری پوزیشن کا غلط استعمال کرکے والدین کو مخصوص وینڈرز سے مہنگی، لوگو والی کاپیاں، ورک بکس اور یونیفارمز خریدنے پر مجبور کرنے پر 17 بڑے نجی سکول سسٹمز کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے۔ سکولوں کو شوکاز نوٹس کو جواب جمع کرونے کے لئے 31 دسمبر تک کا وقت دیا گیا ہے۔ پولٹری کے شعبے میں کمپٹیشن کمیشن نے آٹھ بڑی پولٹری ہیچریز پر ایک دن کے چوزے کی قیمتوں میں اضافے کے لئے کارٹلائزیشن کے جرم میں مجموعی طور پر 155 ملین روپے کا جرمانہ عائد کیا۔ چھ بڑی یوریا بنانے والی کمپنیوں پر مجموعی طور پر 37 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔ کمپٹیشن کمشن نے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں کارروائی کرتے ہوئے ٹرانسپورٹرز آف گڈز ایسوسی ایشن اور لوکل گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن پر ریٹ فکسنگ کے جرم میں پچاس لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔ حکام نے کہا کہ کچھ کمپنیاں جرمانوں کیخلاف عدالت گئیں مگر جرمانے برقرار رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔