مقبوضہ کشمیر، مودی حکومت کا ڈیجیٹل کریک ڈائون جاری
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ وی پی این کے استعمال کو جرم بنانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مودی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں ڈیجیٹل آزادیوں کو کس حد تک روک رہی ہے جہاں معلومات اور سوشل میڈیا تک رسائی پر طویل عرصے سے سخت پابندیاں عائد ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ غیرقانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مودی کی زیرقیادت بھارتی حکومت نے شہری آزادیوں پر پابندیوں کو مزید سخت کرتے ہوئے ضلع ڈوڈہ میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم تک رسائی کے لیے ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (VPN) ایپلی کیشنز کا استعمال کرنے پر دو شہریوں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی پولیس نے دونوں افراد کے خلاف ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے جاری کردہ امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کرنے کے الزام پر الگ الگ مقدمات درج کیے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے ضلع میں وی پی این ایپلی کیشنز کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی۔ تھانہ ڈوڈہ کی پولیس ٹیم نے بگلہ مین بازار میں معمول کی گشت کے دوران ایک شخص کو گرفتارکر لیا جس کی شناخت خالد ابرار بٹ ساکن بگلہ بھارتھ کے طور پر ہوئی۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ وہ اپنے موبائل فون پر وی پی این ایپلیکیشن استعمال کرتے ہوئے پایا گیا اور اس کی وضاحت فراہم کرنے میں ناکام رہا جس کے بعد اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ پولیس نے ایک اور شہری محمد عرفان کو جو تحصیل چلی کے علاقے ٹنڈلا کا رہائشی ہے، گندوہ کے علاقے میں شالی پل کے قریب وی پی این ایپلیکیشن استعمال کرنے پر گرفتار کیا۔
عرفان کے خلاف پولیس سٹیشن گندوہ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ من مانی گرفتاریاں، چھاپے اور طویل نظر بندیاں کشمیری عوام کی حق خودارادیت کی جائز جدوجہد کو دبانے میں ناکامی پر مودی حکومت کی شدید بوکھلاہٹ کی عکاسی کرتی ہیں۔ کالے قوانین کے استعمال، من گھڑت مقدمات اور منظم انداز میں ہراساں کرنے سمیت بھارتی جبر سے نہ تو کشمیریوں کے عزم کو کمزور اور نہ ہی ان کے آزادی کے مطالبے کو دبایا جا سکا ہے بلکہ جابرانہ اقدامات نے بھارت کو مزید بے نقاب کر دیا اور بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی فوری مداخلت کو اجاگر کیا ہے تاکہ مقبوضہ علاقے میں بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھارت کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ وی پی این کے استعمال کو جرم بنانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مودی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں ڈیجیٹل آزادیوں کو کس حد تک روک رہی ہے جہاں معلومات اور سوشل میڈیا تک رسائی پر طویل عرصے سے سخت پابندیاں عائد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وی پی اینز پر پابندی اجتماعی سزا کے مترادف ہے اور اس کا مقصد اختلاف رائے کو دبانا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے استعمال مودی حکومت کے خلاف
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔