شوگر ملوں کی نگرانی پر مامور6اہلکار معطل
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251229-08-20
اسلام آباد ( نمائندہ جسارت)فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)نے شوگر ملوں کی مانیٹرنگ ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے والے 6 اہکاروں کو معطل کر دیا۔ ایف بی آر کے مطابق شوگر ملوں میں تفویض کردہ مانیٹرنگ ڈیوٹی سے بلااجازت غیرحاضر پائے گئے 6 اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے یہ اقدام فرائض میں غفلت کے خلاف ایف بی آر کی زیرو ٹالرنس پالیسی کا حصہ ہے۔بیان میں کہا گیا کہ مذکورہ اہلکاروں کو سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 40B کے تحت شوگر کی پیداوار کی مؤثر، شفاف اور بلا تعطل نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔ایف بی آر نے بتایا کہ ان کی غیر حاضری کا انکشاف لارج ٹیکس آفس لاہور کی جانب سے کی جانے والی معمول کی مانیٹرنگ کے دوران ہوا۔ایل ٹی او لاہور نے غفلت و لاپروائی کی سنگینی کے پیش نظر متعلقہ اہلکاروں کے خلاف مروجہ قواعد و ضوابط کے تحت تادیبی کارروائی شروع کرنے کی سفارش کی ہے، جواب دہی یقینی بنانے اور مانیٹرنگ کے عمل میں کسی بھی ممکنہ خلل سے بچنے کے لیے ان اہلکاروں کوفوری طور پر معطل کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ایف بی آر نے بیان میں کہا کہ اپنی تمام فیلڈ فارمیشنز میں نظم و ضبط، دیانت داری اور پیشہ ورانہ معیار برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے، فرائض میں کسی بھی قسم کی غفلت، بدانتظامی یا تفویض کردہ ذمہ داریوں کی عدم تعمیل کرنے والوں سے قانون کے تحت سختی سے نمٹا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایف بی ا ر
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔