صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے اقدام پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیویارک: اسرائیل کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے اقدام پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق صومالیہ کی درخواست پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس پیر کو ہوگا۔اس سے قبل اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے پر پاکستان سمیت اسلامی ممالک کا مذمتی مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، صومالیہ کی وحدت اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے والا کوئی اقدام قبول نہیں، اسرائیلی اقدام افریقہ کے ہارن اور بحیرہ احمر کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
او آئی سی وزرائے خارجہ کے مشترکہ اعلامیہ میں پاکستان، فلسطین، قطر، سعودی عرب، صومالیہ، سوڈان شریک، سعودی عرب نے بھی صومالی سرزمین پر نئے ملک کا قیام تسلیم کرنے کا اسرائیلی اعلان مسترد کردیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: صومالی لینڈ کو تسلیم تسلیم کرنے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔