اردن، مصر، الجزائر، کوموروس، جیبوتی، گیمبیا، ایران، عراق، کویت، لیبیا، مالدیپ، نائجیریا، عمان، پاکستان، فلسطین، قطر، سعودی عرب، سومالیا، سوڈان، ترکی اور یمن کے وزرائے خارجہ اور او آئی سی نے اسرائیل کے حالیہ اقدام کی سخت مذمت کی اور اس کے نتیجے میں عالمی امن و سلامتی پر پیدا ہونے والے خطرات پر تشویش کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں:صومالیہ، انتہا پسند الشباب کا ساحل پر حملہ، 32 افراد ہلاک

اسلامی ممالک اور او آئی سی نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے 26 دسمبر 2025 کو وفاقی جمہوریہ صومالیہ کے علاقے ’صومالی لینڈ‘ کو تسلیم کرنا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور اس اقدام کے سنگین نتائج خطہ شاخِ افریقہ، بحرِ احمر اور عالمی امن و سلامتی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ اقدام صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے خطرہ ہے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین مثال قائم کرتا ہے۔ تمام ممالک نے وفاقی جمہوریہ صومالیہ کی خودمختاری کی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور اس کی وحدت، علاقائی سالمیت اور مکمل خودمختاری کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی اقدام کو یکسر مسترد کیا۔

یہ بھی پڑھیں:صومالیہ میں امریکی فورسز کے آپریشن میں سینیئر داعش کمانڈر 10 ساتھیوں سمیت مارا گیا

اعلامیے میں کہا گیا کہ کسی بھی ریاست کے علاقوں کو تسلیم کرنا ایک خطرناک پیشرفت ہے جو بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ پیدا کرتی ہے اور یہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

اسلامی ممالک نے واضح کیا کہ اسرائیل کے اقدام اور فلسطینی عوام کو ان کی زمین سے زبردستی نکالنے کی کسی بھی کوشش کو بھی یکسر مسترد کیا جاتا ہے اور اس کی کوئی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔

اسلام آباد میں جاری اس اعلامیے میں تمام شامل ممالک نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس غیر قانونی اقدام کے اثرات کو نظر انداز نہ کرے اور صومالیہ کی خودمختاری کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل او آئی سی صومالی لینڈ صومالیہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل او ا ئی سی صومالی لینڈ صومالیہ بین الاقوامی اور اس ہے اور کے لیے

پڑھیں:

کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار

پشاور:

خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔

ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت