ریٹائرڈ خاتون پولیس اہلکار نے میرے پلاٹ پر جاری کام کو روک دیا، عبدالرشید
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) حیدرآباد کی یونین کونسل 19 میاں سرفراز کالونی سے پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر منتخب چیئرمین عبدالرشید عرف بابو پالاری نے حیدرآباد پریس کلب میں پیپلزپارٹی کے رہنماؤں سید نادر شاہ اور غلام علی سولنگی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پلاٹ پر تجاوزات کے الزامات کو محکمہ پولیس کے ریٹائرڈ اے ایس آئی سید علی شاہ نصر نے گرفتار کیا ہے۔ دو روز قبل کی پریس کانفرنس جھوٹی اور بے بنیاد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ پلاٹ 6020 فٹ لمبا دیہہ حیدرآباد میں واقع ہے، میرے والد مرحوم محمد عظیم پالاری کے نام پر 1978 سے ڈائریکٹر سیٹلمنٹ سروس لینڈ ریکارڈ میں رجسٹرڈ ہے، انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریٹائرڈ خاتون پولیس اہلکار نسرین ظل انور شاہ اپنے بیٹوں اور نامعلوم افراد کے ہمراہ 5 دسمبر کو جاری کام کو روکنے کے لیے آئی تھیں، جب کہ وہ 5 دسمبر کو پلاٹ پر کام کو روک رہی تھیں۔ پلاٹ پر کام روک کر مجھے ہراساں کیا جس پر میں نے نسرین اور اس کے بیٹوں اور دیگر کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے تحفظ کے لیے عدالت میں درخواست دائر کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انور شاہ کی اہلیہ نسرین کا مذکورہ پلاٹ کی ملکیت کا دعویٰ جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔ اگر اس کے پاس پلاٹ کی قانونی دستاویزات ہیں تو میں فیصلہ دینے کو تیار ہوں۔ بصورت دیگر میں نسرین اور اس کے بیٹوں کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پلاٹ پر
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔