طورخم بندش: ناقص ادویات کے استعمال سے افغان مریض خطرات کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان میں ادویات کی قلت سے مریض اسمگل شدہ ادویات استعمال کرنے پرمجبور ہیں جس سے بچوں، حاملہ خواتین اور دیگر بیماریوں میں مبتلا افراد کی زندگیاں شدید خطرے میں پڑگئی ہیں۔ افغان جریدے ہشتِ صبح نے انکشاف کیا ہے کہ طورخم بارڈر کی بندش اور پاکستان سے ادویات کی درآمد پر پابندی کے بعد افغانستان میں غیر قانونی اور اسمگل شدہ ادویات کی بھرمار ہو گئی ہے، یہ ادویات اب نہ صرف فارمیسیز بلکہ سڑک کنارے دکانوں تک بھی پہنچ چکی ہیں۔ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ ان ادویات کے معیار کی جانچ کے لیے کوئی مؤثر نظام موجود نہیں جبکہ ذخیرہ کرنے کے حالات بھی طبی معیار کے مطابق نہیں، جس سے مریضوں کے علاج کی افادیت متاثر ہو رہی ہے۔ افغان جریدے کے مطابق کابل کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اب ادویات پہلے جیسا اثر نہیں کرتیں اور بیماری کے ساتھ مالی دباؤ بھی بڑھ گیا ہے، افغانستان میں ادویات کی اسمگلنگ نیا مسئلہ نہیں، تاہم طورخم کی طویل بندش اور طلب میں اضافے کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ افغان میڈیا رپورٹ ان کے مطابق پاکستانی ادویات کی درآمد بند ہونے کے بعد غیر قانونی ادویات کی مانگ بڑھی، جس سے اسمگلنگ میں بھی اضافہ ہوا ہے، اسمگل شدہ ادویات پر ٹیکس کم ادا کیا جاتا ہے، اس لیے یہ نسبتاً سستی پڑتی ہیں اور منافع بھی زیادہ ہوتا ہے مگر غیر قانونی ہونے کے باعث نہ معیار پر کوئی کنٹرول ہے اور نہ ذخیرہ کرنے کے مناسب انتظامات موجود ہیں۔ خیال رہے کہ بعض اوقات یہ ادویات شدید گرمی یا سردی میں کئی دنوں تک کنٹینرز میں کھڑی رہتی ہیں، جس سے انہیں نقصان پہنچتا ہے، مگر اس کے باوجود یہ مارکیٹ میں فروخت ہو جاتی ہیں۔ واضح رہے کہ کشیدگی میں اضافے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم بارڈر کی بندش اور افغان طالبان کی جانب سے ادویات کی درآمد روکنے کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے بعد افغان طالبان حکومت کی جانب سے بھارتی اور ایرانی ادویات درآمد کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، اسی سلسلے میں طالبان کے نائب وزیرِ صحت نے ایران جبکہ وزیرِ صحت نے بھارت کا دورہ بھی کیا۔ رپورٹ کے مطابق ایک مقامی ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ اسمگل شدہ ادویات زائد المیعاد ہو سکتی ہیں یا غلط حالات میں رکھی گئی ہوتی ہیں، جو یا تو بالکل اثر نہیں کرتیں یا مریض کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق بچوں، حاملہ خواتین اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کو سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں، جبکہ اینٹی بایوٹکس کے بے قابو استعمال سے دواؤں کے خلاف مزاحمت بڑھنے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے، اگر یہ رجحان جاری رہا تو افغانستان کو ایک بڑے عوامی صحت کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسمگل شدہ ادویات ادویات کی کے مطابق کے بعد
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔