پی ٹی آئی انتہا پسندی چھوڑ کر سیاست کے دائرے میں آئے ‘ بلاول
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251229-08-23
لاڑکانہ (مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش معاشی اور سیاسی چیلنجز کا حل انتہا پسندی نہیں بلکہ مفاہمت اور سیاسی استحکام میں ہے، پی ٹی آئی کو انتہا پسندانہ طرزِ سیاست ترک کر کے جمہوری حدود میں واپس آنا چاہیے ،پی ٹی آئی نے اپنے قائد کی گرفتاری پر ادارے پر حملہ کیا اگر یہی قدم پی پی اٹھاتی تو نہ جانے ہمارا کیا حشر کیا جاتا پی ٹی آئی کے ساتھ تو کچھ ہوہی نہی رہا۔ لاڑکانہ چلڈرن اسپتال میں آئی سی یو کا افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی استحکام اور جمہوریت کی بقا کے لیے حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں دونوں کو کردار ادا کرنا ہوگا، اگر انتہاپسندی کی سیاست کی جائے گی تو اس کے جواب میں جو سختی ہوتی ہے اس پر شکایت نہیں ہونی چاہیے، انگریزی محاورہ ہے کہ اگر آپ باورچی خانے میں گرمی کی شدت برداشت نہیں کرسکتے تو باہر چلے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ کے لیڈر پر ایک چھوٹا سا نیب کیس بنتا ہے اور آپ اپنے قائد کی گرفتاری کے ردعمل پر ہمارے قومی ادارے پر حملہ کریں گے تو بعد میں آپ شکایت نہیں کریں کیوں کہ پھر تو قانون کے مطابق آپ کے خلاف ایکشن ہوگا۔ بلاول نے کہا کہ گزشتہ روز میں نے گڑھی خدابخش میں اپنے کارکنوں سے یہی سوال کیا اور آپ سے بھی یہی سوال کرتا ہوں کہ یہ تو پی ٹی آئی کی بات ہورہی تھی اگر اپنے قائد کی گرفتاری پر پی پی ادارے پر حملہ کرتی تو ہمارا کیا حشر کیا جاتا؟ تحریک انصاف کے ساتھ تو کچھ ہو ہی نہیں رہا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پی پی کا جو تجربہ رہا ہے اور اس کی جو تاریخ رہی ہے اس کے مطابق ہماری تجویز یہی ہے کہ تحریک انصاف انتہاپسندی کی سیاست چھوڑ دے اور اپنی سیاست کو سیاست کے دائرے میں واپس لائے یہ ان کی سیاست، ان کی جماعت، ان کے قائد اور ان کے کارکنوں کے لیے بہتر ہوگا اور اس کا اثر پورے ملک کی سیاست پر پڑے گا۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ مفاہمتی سیاست پی پی کا فلسفہ ہے اور اس پر سب سے زیادہ عمل صدر زرداری نے کیا، آج کی سیاست میں بھی مفاہمت کے لیے صدر زرداری کو ہی کردار ادا کرنا پڑے گا ان کے پاس مفاہمت کی تاریخ موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت بھارت اور افغانستان کی سرحد پر معاملات خراب ہیں، ملک میں دہشت گردی ہے، ایسے وقت میں پی ٹی آئی اگر انتہاپسند تنظیم کی طرح کام کرے گی تو ریاست کا رویہ وہی ہوگا۔ بلاول کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے برسی پر وفد بھیجا تاہم اس میں کوئی سیاسی بات نہیں ہوئی، سیاسی جماعتوں کو سیاسی راستے نکالنے چاہئیں یہ عوام کے مفاد میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن اپنے وقت پر ہوں گے شفاف انتخابات کے لیے اگر کوئی اصلاحات لانی ہیں تو سیاسی جماعتیں مل کر کام کریں، ابھی الیکشن میں وقت ہے، جے یو آئی سمیت تمام جماعتیں انتخابی اصلاحات پر توجہ دیں اور اعتراضات دور کریں۔
لاڑکانہ: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کر رہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ پی ٹی ا ئی کی سیاست کے لیے
پڑھیں:
رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ وزیراعظم پاکستان ہی آزاد کشمیر کا وزیراعظم منتخب کرے۔آزاد کشمیر کے علاقے میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے ایک بار پھر حق حکمرانی، مالکیت اور حق روزگار کا انتخابی ایجنڈا دہراتے ہوئے کہا کہ اگر کشمیریوں نے انتخابات میں ووٹ دے کر اکثریت دلوائی تو یہ تینوں مسائل حل کردیں گے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر میں گزشتہ چھ ماہ سے ہماری حکومت ہے اور یہاں پر جو کام کیے اُن پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی بات کرنے والوں کو پنجاب کی سڑکیں ہی ٹھیک لگتی ہیں اور کہتے ہیں کہ صوبے سے نکلتے ہی سڑکیں خراب ہیں۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ رائیونڈ کو پنجاب سمجھتے ہیں کیونکہ اندرون صوبے کی حالت بہت بری ہے اور انہیں اس کی کوئی پرواہ بھی نہیں ہے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ اب یہ چاہتے ہیں کہ وزیراعظم آزاد کشمیر کا فیصلہ اسلام آباد سے ہو اور رائیونڈ کا ایک شہر اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننے کا خواہش مند ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :