ایس آئی ایف سی کی دانشمندانہ اور عملی حکمتِ عملی کے باعث پاکستان بتدریج اقتصادی استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے اور ایک خوشحال مستقبل کی بنیاد مضبوط ہو رہی ہے۔ ملک میں نجی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں واضح اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جو معیشت کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ ترقی کی رفتار کو بھی تیز کر رہا ہے۔
توانائی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں اینگرو اور اتصالات نے دیودار (جاز) میں 157 ارب روپے جبکہ ٹیلی نار پاکستان میں 108 ارب روپے کی سرمایہ کاری کر کے اقتصادی سرگرمیوں کو مزید وسعت دی ہے۔ اسی طرح سیمنٹ اور فوڈ سیکٹر میں میپل لیف نے پائیونیئر سیمنٹ میں 76 ارب روپے اور شائت گروپ نے رفحان مائز میں 68.

5 ارب روپے کی سرمایہ کاری کر کے صنعتی شعبے میں نئی روح پھونک دی ہے۔
قومی فضائی شعبے میں بھی ایک اہم پیش رفت سامنے آئی، جہاں عارف حبیب کنسورشیم نے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص 135 ارب روپے میں حاصل کر کے فضائی سرمایہ کاری کے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔
معدنی شعبہ بھی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ پانچ بڑے عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے 5 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری نے پاکستان کی صنعتی ترقی کے لیے نئے راستے کھول دیے ہیں۔ گوگل، بی وائی ڈی، ارامکو، سام سنگ اور ایپل جیسے عالمی اداروں کی دلچسپی پاکستان پر بڑھتے ہوئے عالمی اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔
چین کے ساتھ بزنس ٹو بزنس معاہدوں نے دوطرفہ اقتصادی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ اندازوں کے مطابق 2026 تک پاکستان میں سرمایہ کاری میں 37 فیصد اضافہ متوقع ہے، جبکہ 16 سے زائد شعبوں میں سرمایہ کاری کے روشن امکانات سامنے آ رہے ہیں۔

 

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کی سرمایہ کاری ارب روپے

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی