کوئٹہ اور پشاور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)کوئٹہ اور پشاور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگیا۔پشاور میں آٹے کی قیمتیں ایک بار پھر سر اٹھانے لگیں اور اسکا گراف بلندی کی طرف ہی جا رہا ہے۔ چند دنوں میں 20 کلو آٹے کا تھیلہ 200 روپے اضافے سے 2650 روپے ہوگیا ہے جبکہ پرچون مارکیٹ میں فی کلو آٹا 10 روپے اضافے سے 140 روپے تک فروخت ہورہا ہے۔ ڈیلروں نے اضافے کی وجہ پنجاب سے خیبر پختونخوا کو آٹے کی ترسیل پر پابندی کو قرار دےدیا۔
آٹا قیمتوں میں کمی اور استحکام لانے کے لئے، خیبر پختونخوا کے سرکاری گوداموں سے فلور ملوں کو گندم کی سپلائی شروع کرنے کا معاملہ ، صوبائی کابینہ کے اگلے اجلاس میں پیش کیا جارہا ہے۔کوئٹہ میں بھی آٹے کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہو گیا ، 20 کلو کی بوری 200 روپے اضافے کے ساتھ 2500 روپے جبکہ 50 کلو کی بوری 500 روپے اضافے کے ساتھ 6250 روپے تک پہنچ گئی۔ڈیلرز کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس سٹاک ختم ہونے کے قریب ہے جبکہ پنجاب حکومت نے ضلع بندی کر رکھی ہے اس لئے قیمتوں مین اضافہ ہوا۔ محکمہ خوراک بلوچستان کے مطابق نجی شعبے کو گندم کی خریداری کا پابند بنایا تھا۔
تحریکِ انصاف کی سیاست دوسرے صوبوں میں مداخلت تک محدود ہو چکی ہے، عابد شیر علی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: قیمتوں میں روپے اضافے
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔