مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی نے سیکیورٹی اور ذہنی صحت سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کے تناظر میں ایک اہم اے آئی سیفٹی عہدے کے لیے555 لاکھ ڈالر تنخواہ کی پیشکش کی ہے۔

کمپنی ایک نئے ’ہیڈ آف پریپیرڈنیس‘ کی تقرری کی خواہاں ہے جو اے آئی ماڈلز سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات اور ان کے غلط استعمال سے نمٹنے کی حکمتِ عملی تیار کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی ماڈلز کس طرح سیکیورٹی رسک بن سکتے ہیں، زیرو ڈے ولنیبریٹی کیا ہے؟

اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سیم آلٹمین کے مطابق یہ عہدہ گزشتہ چند ماہ سے خالی تھا۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ نیا سربراہ کمپنی کے Preparedness Framework کی تکنیکی حکمتِ عملی اور اس پر عملدرآمد کی قیادت کرے گا جس کا مقصد جدید اور طاقتور اے آئی صلاحیتوں سے جنم لینے والے شدید نقصانات کے خطرات کی پیشگی نشاندہی اور تیاری ہے۔

کمپنی کی جانب سے اس عہدے کے لیے بھرتی ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب اوپن اے آئی کو چیٹ جی پی ٹی کے صارفین کی ذہنی صحت پر منفی اثرات سے متعلق متعدد الزامات اور قانونی کارروائیوں کا سامنا ہے جن میں چند غلط موت (Wrongful Death) کے مقدمات بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی استعمال کرنے والوں کو پی ٹی اے نے نئی ہدایات جاری کردیں

 اوپن اے آئی کی اپنی تحقیق کے مطابق چیٹ جی پی ٹی کے دس لاکھ سے زائد صارفین جو ہفتہ وار فعال صارفین کا تقریباً 0.

07 فیصد بنتے ہیں، میں ذہنی صحت کی ہنگامی علامات دیکھی گئیں جن میں شدید ذہنی بے چینی، سائیکوسس اور خود کو نقصان پہنچانے سے متعلق خیالات شامل تھے۔

سیم آلٹمین نے اعتراف کیا کہ ماڈلز کے ذہنی صحت پر ممکنہ اثرات پہلی بار 2025 میں نمایاں طور پر سامنے آئے اور اسی تناظر میں انہوں نے اس عہدے کو انتہائی اہم وقت میں ایک نہایت حساس ذمہ داری قرار دیا۔ ان کے مطابق، اس کردار کا مقصد یہ بھی ہے کہ سائبر سیکیورٹی کے ماہرین کو جدید اے آئی صلاحیتوں سے لیس کیا جائے جبکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ یہی ٹیکنالوجی حملہ آور عناصر کے لیے نقصان دہ ثابت نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان ’اے آئی‘ کے میدان میں آگے بڑھنے لگا، نوجوان ماہرین اور اسٹارٹ اپس کے لیے بے شمار مواقع

انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ایک نہایت دباؤ والا عہدہ ہوگا جہاں منتخب امیدوار کو فوری طور پر پیچیدہ اور حساس معاملات سے نمٹنا پڑے گا۔

اوپن اے آئی کی سیفٹی ٹیموں کو پچھلے چند سالوں میں نمایاں ملازمین کے چھوڑنے کا سامنا رہا ہے۔ جولائی 2024 میں کمپنی نے اس وقت کے ہیڈ آف پریپیرڈنیس الیگزینڈر میڈری کو دوبارہ تعینات کیا اور کہا کہ یہ کردار دو اے آئی سیفٹی محققین جوآکین کوئنیونیرو کینڈلا اور للیان وینگ سنبھالیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں جنگلات کا تحفظ، پہلی مرتبہ اے آئی کا استعمال اور جدید سیٹلائٹ مانیٹرنگ کا آغاز

تاہم وینگ چند ماہ بعد ہی اوپن اے آئی چھوڑ گئیں۔ اسی سال کے آغاز میں کینڈلا نے اعلان کیا کہ وہ پریپیرڈنیس ٹیم سے ہٹ کر اوپن اے آئی میں بھرتیوں کی قیادت کریں گے۔

نومبر 2025 میں ماڈل پالیسی کے نام سے جانی جانے والی سیفٹی ریسرچ ٹیم کی سربراہ آندریا والونے نے کہا کہ وہ سال کے اختتام پر اوپن اے آئی چھوڑ رہی ہیں۔ مبینہ طور پر اس اے آئی سیفٹی ریسرچ لیڈر نے چیٹ جی پی ٹی کے ان صارفین کو دیے جانے والے جوابات کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا جو ذہنی صحت کے بحران کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اے آئی اے آئی نوکریاں لاکھوں ڈالرز تنخواہ نئی نوکریاں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اے ا ئی اے ا ئی نوکریاں نئی نوکریاں یہ بھی پڑھیں چیٹ جی پی ٹی اوپن اے آئی اے ا ئی کے لیے

پڑھیں:

میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا

چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔

کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔

پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگی

بی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی

انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدف

دانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔

2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئی

اس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔

ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہ

بی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔

مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔

چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاری

دانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔

بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔

گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی

ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف