Islam Times:
2026-06-02@23:34:16 GMT

کچے سے کراچی تک، ریاست کی واپسی کا اعلان

اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT

کچے سے کراچی تک، ریاست کی واپسی کا اعلان

اسلام ٹائمز: آج ضرورت اس بات کی ہے کہ جرائم کے خلاف اس واضح مؤقف کو سیاسی اختلافات کی نذر نہ کیا جائے، حکومت اگر قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لیے قدم بڑھا رہی ہے تو اس کی حمایت دراصل معاشرے کے محفوظ مستقبل کی حمایت ہے، امن، انصاف اور ریاستی رِٹ، یہی وہ راستہ ہے جو سندھ کو آگے لے جا سکتا ہے۔ تحریر: راجہ غلام رسول اوڈھو

سندھ میں برسوں بعد یہ احساس مضبوط ہوا ہے کہ ریاست صرف موجود ہی نہیں بلکہ متحرک بھی ہے۔ کچے کے علاقے، جو طویل عرصے تک ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ عناصر کی محفوظ پناہ گاہ سمجھے جاتے تھے، اب ریاستی رِٹ کی عملی مثال بنتے جا رہے ہیں۔ وزیر داخلہ سندھ کا واضح اور دو ٹوک مؤقف ’’سرینڈر کرو یا قانون کا سامنا کرو‘‘ دراصل اسی بدلتے ہوئے بیانیے کا اعلان ہے۔ حالیہ کارروائیوں میں اغواء شدہ مسافروں کی بحفاظت بازیابی، خطرناک ڈاکوؤں کا خاتمہ اور جدید اسلحے کی برآمدگی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اب کاغذی دعوؤں سے آگے بڑھ چکے ہیں۔ سخت موسمی حالات، دشوار گزار علاقے اور طویل آپریشنز کے باوجود پولیس، رینجرز اور انٹیلیجنس اداروں کا مشترکہ کردار قابلِ تحسین ہے۔

یہ ہم آہنگی اس بات کی علامت ہے کہ جب ریاستی ادارے ایک صف میں کھڑے ہوں تو جرائم پیشہ عناصر کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ کراچی میں بھتہ خوری کے خلاف جاری کارروائیاں بھی اسی پالیسی کا تسلسل ہیں۔ بیرونِ ملک بیٹھ کر شہر کی معیشت کو یرغمال بنانے والے نیٹ ورکس کے خلاف انٹرپول اور ایف آئی اے کے ذریعے قانونی عمل کا آغاز اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اب قانون کی گرفت سرحدوں تک محدود نہیں رہی۔ تاجروں کو براہِ راست پولیس سے رابطے کی اپیل دراصل اعتماد کی بحالی کی ایک سنجیدہ کوشش ہے، جس کے مثبت نتائج آنا ناگزیر ہیں۔ یہ بھی اہم ہے کہ یہ اقدامات کسی ایک افسر یا وقتی دباؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک ادارہ جاتی سوچ کی عکاسی ہیں۔

آئی جی سندھ کی قیادت میں ایک ایسا نظام تشکیل دیا گیا ہے جو تسلسل کے ساتھ کام کر رہا ہے اور جس کی بنیاد شخصیات کے بجائے پالیسی پر ہے، یہی کسی بھی مؤثر ریاست کی پہچان ہوتی ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ جرائم کے خلاف اس واضح مؤقف کو سیاسی اختلافات کی نذر نہ کیا جائے، حکومت اگر قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لیے قدم بڑھا رہی ہے تو اس کی حمایت دراصل معاشرے کے محفوظ مستقبل کی حمایت ہے، امن، انصاف اور ریاستی رِٹ، یہی وہ راستہ ہے جو سندھ کو آگے لے جا سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کی حمایت کے خلاف

پڑھیں:

دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری

گلگت:

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔

گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں،  سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔

متعلقہ مضامین

  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے