وزیراعلیٰ کےپی کی آمد پر پنجاب اسمبلی میں ہنگامے کی انکوائری رپورٹ سیکیورٹی اداروں کو بھیجنےکااعلان
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے اعلان کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی ہفتے کے آخر میں اسمبلی آمد کے دوران پیش آنے والے ہنگامے سے متعلق کی گئی انکوائری کی رپورٹ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھیجی جا رہی ہے تاکہ واقعے کی آزادانہ تحقیقات کی جا سکیں۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے تین روزہ دورۂ لاہور کے دوران جمعے کو پنجاب اسمبلی میں خطاب کیا گیا تھا، تاہم اس موقع پر ان کے ہمراہ آنے والے افراد اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جبکہ تحریک انصاف کے رہنماؤں اور صحافیوں کے درمیان بھی گرما گرم جملوں کا تبادلہ دیکھا گیا۔
لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ اسمبلی ایک ریڈ زون ہے جہاں سخت سیکیورٹی انتظامات لاگو ہیں اور یہاں داخلے کے لیے خصوصی اجازت نامہ یا کم از کم شناختی کارڈ نمبر کی تصدیق لازمی ہے۔ ان کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو یہ شرائط پہلے ہی بتا دی گئی تھیں اور ان کے ہمراہ آنے والے قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین کی فہرست فراہم کی گئی تھی جنہیں سہولت دی گئی، تاہم طے شدہ پروٹوکول پر عمل نہیں کیا گیا۔
اسپیکر نے الزام عائد کیا کہ اسمبلی میں غیر شناخت شدہ افراد کو لایا گیا، جو قواعد کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق ہر فرد کے لیے اجازت اور شناخت لازمی ہے اور کسی قسم کی غیر مجاز انٹری قابل قبول نہیں۔
انہوں نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ قانون سازی پر اعتراض کرنا جمہوری حق ہے لیکن گھیراؤ، جلاؤ گھیراؤ اور انتشار پھیلانا نااہلی اور عدم استحکام پیدا کرنے کی نیت کو ظاہر کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی اجلاسوں پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں اور رکاوٹیں عوامی وسائل کا ضیاع ہیں۔
اسپیکر نے واضح کیا کہ تحریک انصاف کے کارکنوں کو اسمبلی آنے سے نہیں روکا گیا، تاہم غنڈہ گردی اور تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ اپنی سرگرمیوں کو علاقائی حدود تک محدود کرنے کے بجائے قومی سطح پر پھیلائیں کیونکہ قومی دائرہ کار ہی وفاق کو مضبوط بناتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایک اعلیٰ اختیاراتی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے وزیر اعلیٰ کی آمد کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا۔ کمیٹی کے مطابق متوقع تعداد سے زیادہ افراد ان کے ہمراہ تھے، متعدد افراد فہرست میں شامل نہیں تھے اور شناخت بھی پیش نہ کر سکے، جس سے سیکیورٹی قواعد کی خلاف ورزی ہوئی۔ بعد ازاں صورتحال اس وقت بگڑی جب روکے جانے پر سیکیورٹی عملے کے ساتھ ہاتھا پائی کی گئی۔
اسپیکر کے مطابق کمیٹی کی رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ غیر مجاز افراد میں ماضی میں سزا یافتہ افراد شامل تھے، جن میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات والے افراد بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری عمارتیں جلانے والوں کو اسمبلی میں لانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ اسپیکر سمیت ہر کوئی طریقۂ کار کے ہر لفظ کا پابند ہے اور اسمبلی کے اندر اور باہر ہونے والی تمام خلاف ورزیوں پر کارروائی ہوگی۔ انہوں نے تمام اداروں سے مکمل تحقیقات کی اپیل کرتے ہوئے جمہوری اقدار کے تحفظ اور احتساب کو یقینی بنانے کا عزم دہرایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسمبلی میں وزیر اعلی کے مطابق انہوں نے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔