باکو نے بھی صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے پر تل ابیب کی مخالفت کردی
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
اپنے ایک جاری بیان میں آذری وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ باکو نے اپنے علاقوں میں غیر ملکی فوجی قبضے اور علیحدگی پسندی کا تلخ تجربہ برداشت کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو الگ ملک تسلیم کرنے کے باوجود، آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ وہ جمہوری صومالیہ کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتے ہیں۔ مذکورہ وزارت نے صومالیہ کی تازہ ترین صورت حال پر کہا کہ جمہوری صومالیہ کے علاقے "صومالی لینڈ" کو تسلیم کرنا، بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کے منافی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ آذربائیجان نے اپنے علاقوں میں غیر ملکی فوجی قبضے اور علیحدگی پسندی کا تلخ تجربہ برداشت کیا ہے۔ ہم اپنے اصولوں اور تجربے سے متاثر ہو کر تمام ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کے تحفظ کے لئے پُرعزم ہے۔ ہم عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس معاملے میں بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری کریں۔
قابل غور بات ہے کہ اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا اقدام، بین الاقوامی سطح پر شدید مذمت کا باعث بنا۔ شدید عالمی ردعمل کے خوف سے امریکی صدر "ڈونلڈ ٹرمپ" نے بھی کہا کہ وہ فی الحال صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ واضح رہے كہ یہ بیان ایسے وقت میں جاری کیا گیا جب آذربائیجان کے اسرائیل کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ نیز گزشتہ برسوں میں دونوں ممالک کے حکام کئی بار باکو اور تل ابیب کے دورے بھی کر چکے ہیں۔ یاد رہے کہ صومالی لینڈ وہ نام ہے جو صومالیہ کے 5 شمالی صوبوں کے قبائل نے اپنے لئے منتخب کیا ہے تاکہ صومالیہ سے علیحدگی کا اعلان کر سکیں۔ اب تک اسرائیل کے علاوہ، اقوام متحدہ کے کسی بھی رکن ملک نے صومالی لینڈ کو تسلیم نہیں کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: صومالی لینڈ کو تسلیم تسلیم کرنے
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔