اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا عالمی امن کیلئے شدید خطرہ ہے، اسلامی ممالک کا مشترکہ اعلامیہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
مشترکہ اعلامیہ میں پاکستان، ایران، فلسطین، قطر، سعودی عرب، صومالیہ، سوڈان شریک تھے، اس کے علاوہ ترکیہ، یمن، اردن، مصر، الجزائر، کوموروس، جبوتی، گیمبیا، عراق، کویت، لیبیا اور مالدیپ بھی مشترکہ اعلامیے کا حصہ تھے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے پرپاکستان سمیت اسلامی ممالک نے مشترکہ مذمتی اعلامیہ جاری کردیا۔ مشترکہ اعلامیہ میں پاکستان،فلسطین، قطر، سعودی عرب، صومالیہ، سوڈان شریک تھے، اس کے علاوہ ترکیہ، یمن، اردن، مصر، الجزائر، کوموروس، جبوتی، گیمبیا، ایران، عراق، کویت، لیبیا اور مالدیپ بھی مشترکہ اعلامیے کا حصہ تھے۔ دفتر خارجہ کے مطابق مشترکہ اعلامیہ میں نائجیریا، عمان اور او آئی سی بھی شریک تھے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اسرائیل کی مذمت کرنے والے ممالک میں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش شامل نہیں ہیں، متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش نے امریکی حکومت کے معاہدہ ابراہیمی پر دستخط کر رکھے ہیں۔
ترجمان کا بتانا ہے کہ اعلامیہ او آئی سی کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، اسرائیلی اقدام افریقا کے ہارن اور بحیرہ احمر کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صومالیہ کی وحدت اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے والا کوئی اقدام قبول نہیں، ریاستوں کے حصوں کو تسلیم کرنا عالمی امن کے لیے خطرناک مثال قائم کرتاہے، ایسے اقدامات یو این چارٹر اور بین الاقوامی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
اعلامیے کے مطابق اسرائیلی اقدام عالمی امن و سلامتی کے لیے شدید خطرات پیدا کرتا ہے، صومالی لینڈ سے متعلق اسرائیلی فیصلہ اس کے توسیع پسندانہ عزائم کا عکاس ہے، اعلامیے میں فلسطینیوں کی جبری بےدخلی کےکسی بھی ممکنہ ربط کومکمل مسترد کردیا گیا۔ مشترکہ اعلامیے کے مطابق فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے زبردستی نکالنے کی کوشش قبول نہیں ہے، اسلامی ممالک اوراو آئی سی کا صومالیہ کی خودمختاری پرمتفقہ اورواضح مؤقف ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مشترکہ اعلامیے مشترکہ اعلامیہ صومالی لینڈ کو تسلیم کے مطابق
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں