data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

غزہ میں جاری جنگ کے باعث بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی مشکلات میں سرد موسم اور شدید بارشوں نے مزید اضافہ کر دیا ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق جنوبی غزہ کے شہر خان یونس اور ساحلی علاقے المواسی میں موسلا دھار بارش کے باعث خیموں میں رہنے والے ہزاروں افراد شدید سردی اور خوف کا شکار ہو گئے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق جنوبی غزہ میں رہائش پذیر 47 سالہ جمیل الشرافی کا کہنا ہے کہ رات گئے شروع ہونے والی بارش کے چند ہی منٹوں میں ان کا خیمہ پانی سے بھر گیا، جس کے باعث خوراک خراب ہو گئی اور کمبل بھیگ گئے۔ جمیل الشرافی، جو اپنے چھ بچوں کے ساتھ ایک عارضی خیمے میں رہتے ہیں، نے بتایا کہ بچے سردی اور خوف سے کانپ رہے تھے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق غزہ کی تقریباً 80 فیصد عمارتیں جنگ میں تباہ یا جزوی طور پر متاثر ہو چکی ہیں، جبکہ 22 لاکھ آبادی میں سے تقریباً 15 لاکھ افراد اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں۔

غزہ میں فلسطینی این جی او نیٹ ورک کے ڈائریکٹر امجد الشوا نے بتایا کہ بے گھر افراد کے لیے تین لاکھ سے زائد خیموں کی ضرورت ہے، تاہم اب تک صرف 60 ہزار خیمے فراہم کیے جا سکے ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیلی پابندیوں کے باعث انسانی امداد مطلوبہ سطح پر غزہ نہیں پہنچ پا رہی۔

اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خراب موسم نے غزہ کے عوام کی مشکلات کو دوگنا کر دیا ہے۔ ادارے کے سربراہ فلپ لازارینی نے کہا کہ لوگ پانی سے بھرے کمزور خیموں اور ملبے کے درمیان زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور امداد کی ترسیل انتہائی ناکافی ہے۔

رپورٹ کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں بھی شدید سردی اور بارشوں کے باعث کم از کم 18 افراد جاں بحق ہو گئے تھے، جن میں کچھ افراد سردی لگنے اور کچھ جنگ سے متاثرہ عمارتیں گرنے کے باعث ہلاک ہوئے۔

ویب ڈیسک مرزا ندیم بیگ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق کے باعث

پڑھیں:

پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع

حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔

ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔

سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا