2025ء میں دنیا بھر سے ہزاروں بھارتیوں کی بے دخلی کی کہانی: حیران کن تفصیلات
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
2025ء بھارتی شہریوں کے لیے بیرونِ ملک ملازمت اور قیام کے حوالے سے ایک مشکل سال ثابت ہوا۔ دنیا کے مختلف ممالک سے 24 ہزار 600 سے زائد بھارتی شہریوں کو ڈی پورٹ کر دیا گیا۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ انکشاف بھارت کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا راجیہ سبھا میں پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار میں سامنے آیا، جسے خلیج ٹائمز نے رپورٹ کیا۔ یہ تعداد نہ صرف گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہے بلکہ بھارت کو درپیش امیگریشن، لیبر قوانین اور غیر قانونی قیام جیسے سنگین مسائل کی بھی عکاسی کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ بھارتی شہری سعودی عرب سے ڈی پورٹ کیے گئے، جہاں سے مجموعی طور پر 10 ہزار 884 افراد کو واپس بھیجا گیا۔ ان میں سے 7 ہزار 19 افراد ریاض جبکہ 3 ہزار 865 جدہ سے بھارت لوٹائے گئے۔
اسی طرح سعودی عرب کے بعد امریکا دوسرے نمبر پر رہا، جہاں 2025 کے دوران 3 ہزار 812 بھارتی شہریوں کو بے دخل کیا گیا۔ علاوہ ازیں متحدہ عرب امارات سے 1 ہزار 469 بھارتی شہری ڈی پورٹ ہوئے، جو گزشتہ 5 برسوں میں کسی ایک سال کے دوران سب سے زیادہ تعداد قرار دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے بھارتی شہریوں کی ڈی پورٹیشن کا رجحان مسلسل بڑھتا رہا ہے۔
2021ء سے 2025ء کے درمیان مجموعی طور پر 3 ہزار 979 بھارتی شہری یو اے ای سے واپس بھیجے گئے، جن میں 2021ء میں 358، 2022ء میں 587، 2023ء میں 666 اور 2024ء میں 899 افراد شامل تھے۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ خلیجی ممالک میں لیبر قوانین کے سخت نفاذ اور غیر قانونی قیام کے خلاف کریک ڈاؤن کا نتیجہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈی پورٹیشن کی بنیادی وجوہات میں ویزا کی مقررہ مدت سے زائد قیام، ورک پرمٹ کے بغیر ملازمت اور مقامی لیبر قوانین کی خلاف ورزیاں سرفہرست رہیں۔ اس کے علاوہ جعلی نوکری آفرز، فرضی بھرتی کے معاملات، آجر سے فرار ہونے کے واقعات اور سول یا فوجداری مقدمات میں ملوث ہونا بھی بھارتی شہریوں کی بے دخلی کی بڑی وجوہات بنے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق کئی کیسز میں افراد قانونی تقاضوں سے لاعلمی یا بہتر روزگار کے لالچ میں غیر قانونی راستے اختیار کرتے رہے، جس کا انجام ڈی پورٹیشن کی صورت میں سامنے آیا۔
متحدہ عرب امارات نے 2024ء میں غیر قانونی رہائش رکھنے والوں کے لیے ویزا ایمنسٹی اسکیم متعارف کرائی تھی، جس کا مقصد ایسے افراد کو اپنی قانونی حیثیت درست کرنے یا بغیر جرمانے کے ملک چھوڑنے کا موقع فراہم کرنا تھا۔
یہ اسکیم یکم ستمبر 2024ء سے نافذ کی گئی، جسے پہلے 31 اکتوبر تک محدود رکھا گیا اور بعد ازاں بڑھا کر 31 دسمبر 2024ء تک کر دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ 2007ء کے بعد یو اے ای کی چوتھی بڑی ایمنسٹی اسکیم تھی، جس کے دوران بڑی تعداد میں غیر قانونی مقیم افراد سامنے آئے۔
علاوہ ازیں دیگر ممالک سے بھی بھارتی شہریوں کی ڈی پورٹیشن کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ملائیشیا سے 1 ہزار 485، بحرین سے 764، سری لنکا سے 372، تھائی لینڈ سے 481 اور برطانیہ سے 203 بھارتی شہریوں کو واپس بھیجا گیا۔ اس کے علاوہ کینیڈا سے 188، جارجیا سے 133 اور آسٹریلیا سے 34 بھارتی شہری بھی 2025 کے دوران ڈی پورٹ ہوئے، جو عالمی سطح پر بھارتی تارکینِ وطن کو درپیش مسائل کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق بیشتر ممالک غیر قانونی قیام کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کرتے اور عموماً بھارتی مشنز سے صرف ڈی پورٹیشن آرڈر، سفری دستاویزات یا شہریت کی تصدیق کے لیے رابطہ کیا جاتا ہے۔
وزارت کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک بھارتی مشنز جعلی بھرتی، دھوکا دہی اور غیر قانونی ملازمت کے جال میں پھنسنے سے بچانے کے لیے باقاعدگی سے ایڈوائزریز بھی جاری کرتے ہیں،تاہم اعداد و شمار یہ واضح کرتے ہیں کہ 2025ء میں بڑی تعداد میں بھارتی شہری ان انتباہات کے باوجود غیر قانونی راستوں اور خطرناک فیصلوں کا شکار بنتے رہے، جس کا نتیجہ عالمی سطح پر ایک بڑے سفارتی اور سماجی چیلنج کی صورت میں سامنے آیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بھارتی شہریوں بھارتی شہری ڈی پورٹیشن کے مطابق کے دوران ڈی پورٹ کے لیے
پڑھیں:
علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
اسلام ٹائمز: موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔ تحریر: عبداللہ البحرانی
مملکتِ بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کے اقدامات میں نمایاں شدت آ گئی ہے، جو وسیع پیمانے پر گرفتاریوں، شہریت کی منسوخی اور مذہبی شعائر پر پابندیوں کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ مرآۃ البحرین کے حوالے سے عبداللہ البحرانی نے لکھا کہ یہ پیش رفت ایک ایسے حساس علاقائی ماحول میں رونما ہو رہی ہے جہاں داخلی سلامتی کے خدشات بدلتے ہوئے علاقائی اتحادوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، خصوصاً اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد۔ اس رپورٹ کا مقصد سرکاری بیانات، انسانی حقوق کے اداروں کے ردِعمل اور سرکاری مؤقف کے تقابلی جائزے کے ذریعے اس مہم کے سیاسی اور قانونی پہلوؤں کا تجزیہ کرنا ہے۔
تاریخی اور سیاسی پس منظر:
انہوں نے لکھا کہ بحرین میں حکومت اور شیعہ اکثریتی آبادی، جو ملک کی اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے، ان کے درمیان کشیدگی ایک طویل عرصے سے موجود ہے۔ اس کشیدگی کی جڑیں سیاسی نمائندگی، اصلاحات کے مطالبات اور امتیازی سلوک کے الزامات میں پیوست ہیں۔ یہ تناؤ خاص طور پر 2011ء کے عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد بڑھ گیا، جب احتجاجی تحریک کو سخت سکیورٹی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا اور شیعہ کارکنان اور علمائے دین کو نمایاں طور پر نشانہ بنایا گیا۔
حالیہ پیش رفت، مئی 2026 کی مہم:
البحرانی کے مطابق مئی 2026 کے آغاز میں بحرین کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کرنے والے بحرینی شہریوں کے ایک گروہ سے متعلق کارروائی کی گئی ہے اور 41 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان افراد پر جارحیت کا جواب دینے کے حوالے سے ایران کے مؤقف سے ہمدردی کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ اعلان بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے اپریل 2026 کے اواخر میں دیے گئے اس بیان کے فوراً بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بحرینی شہریت کوئی ایسا کاغذ نہیں جو محض عطا کر دیا جائے، بلکہ یہ ایک عہد و پیمان ہے، اور جو اس عہد کو توڑے گا وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے حق کو ساقط کر دے گا۔ اس بیان کو شہریت کی منسوخی کی دھمکی کے طور پر دیکھا گیا۔ بعد ازاں مئی 2026 کے آغاز میں حکومت نے 69 افراد کی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے جاری کیے، جن میں بعض کے اہلِ خانہ بھی شامل تھے۔ اسی طرح پانچ افراد کو عمر قید اور مزید 24 افراد کو پانچ سے دس سال تک قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ ان تمام افراد پر ایران کے ردِعمل کی حمایت یا تائید سے متعلق الزامات عائد کیے گئے تھے۔
مذہبی آزادیوں اور انسانی حقوق پر پابندیاں:
البحرانی کے مطابق یہ مہم صرف سکیورٹی پہلو تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کو بھی متاثر کیا ہے۔ تنظیم Americans for Democracy & Human Rights in Bahrain (ADHRB) نے مارچ 2026 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے دوران بحرین میں شیعہ مذہبی رسومات پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی مذمت کی۔ تنظیم نے کعبہ کے ماڈل اور دیگر مذہبی علامات کو ہٹانے، نیز المعامیر گاؤں میں مذہبی تقریبات میں شرکت کرنے والوں کی طلبی اور گرفتاریوں کی نشاندہی کی۔ انسانی حقوق کی رپورٹس کے مطابق یہ اقدامات کوئی نئی بات نہیں بلکہ 2011ء سے شیعہ اکثریتی آبادی کے حقوق پر جاری دباؤ کا تسلسل ہیں، جن میں مساجد کی بندش، نمازِ جمعہ پر پابندیاں اور مذہبی مناسبات کے انعقاد میں رکاوٹیں شامل ہیں۔
سیاسی اور قانونی پہلو:
البحرانی کا کہنا ہے کہ موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔
علاقائی حالات سے فائدہ اٹھانے کی عوام دشمن پالیسی:
البحرانی نے مزید لکھا کہ یہ داخلی مہم خطے میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل ایک جانب اور ایران دوسری جانب بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں، جو فروری 2026 میں مسلح تصادم تک جا پہنچی۔ ان کے مطابق بحرینی حکومت اس ماحول کو داخلی سکیورٹی کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے اور ایران کے حامی سمجھے جانے والے کسی بھی عوامی یا مذہبی رجحان کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل ایک نئی علاقائی سکیورٹی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کی بنیاد اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی، ایران کے ساتھ سیاسی و سکیورٹی مخالفت اور اس مؤقف سے اختلاف رکھنے والی عوامی یا مذہبی سرگرمیوں کو جرم قرار دینے پر رکھی گئی ہے۔
چند تجاویز:
البحرانی کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے یا بیرونی فریقوں سے تعلقات کے نام پر بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانا انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں، خصوصاً مذہبی آزادی، آزادیِ عقیدہ اور حقِ شہریت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مذہبی شناخت کو سکیورٹی خطرے سے جوڑنے کا عمل خوف اور عدم استحکام کی فضا پیدا کرتا ہے اور بحرینی معاشرے کے سماجی تانے بانے کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ البحرانی نے سفارشات پیش کی ہیں کہ من مانی گرفتاریوں اور شہریت کی منسوخی کا فوری خاتمہ کیا جائے، جن شہریوں کی شہریت منسوخ کی گئی ہے، انہیں ان کا حق واپس دیا جائے، مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کا مکمل احترام کیا جائے، شیعہ مذہبی شعائر اور رسومات پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں، بحرین اپنے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں اور ذمہ داریوں کی پابندی کرے، معاشرے کے تمام طبقات کی شمولیت سے ایک جامع قومی مکالمہ شروع کیا جائے تاکہ کشیدگی کے اسباب کا جائزہ لے کر قومی مفاہمت کی راہ ہموار کی جا سکے، مضمون کے اختتام پر البحرانی نے زور دیا کہ پائیدار استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے جامع اور بامعنی قومی مذاکرات ناگزیر ہیں۔