سپر فلو پھیلنے لگا، راولپنڈی میں چار کیسز رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
راولپنڈی:
پاکستان میں سپر فلو سامنےآگیا، راول پنڈی میں سپر فلو کے چار مریض رپورٹ ہوئے ہیں، انتظامیہ نے عوام سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی درخواست کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق راولپنڈی میں سپرفلو کا مرض سامنے آگیا، 22 مریضوں کی اسکریننگ کی گئی جس میں انفلوئنزا سپر فلو کے 4 مریض سامنے آگئے۔
دریں اثنا ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی نے ضلع بھر میں انفلوئنزا اے (H3) "سپر فلو کی صورتحال کو مکمل کنٹرول میں ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے شہریوں کے لیے ہاتھ کو صاف رکھنے اور سانس سے متعلق احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ایڈوائزری جاری کردی۔
محکمہ ہیلتھ نے شہریوں سے کہا ہے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں، دسمبر میں 22 مشتبہ کیسوں میں سے صرف چار کیسوں میں بیماری کی تصدیق ہوئی ہے۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی نے واضح کیا ہے کہ انفلوئنزا اے (H3) جسے عام طور پر "سپر فلو" کہا جاتا ہے اس کے حوالے سے کڑی نگرانی برقرار ہے، اس مقصد کے لیے شدید نوعیت کی سانس کی بیماریوں (SARI) اور انفلوئنزا سے مشابہ علامات (ILI) کے کیسز کی مسلسل اور سخت مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔
موجودہ وبائیاتی اعداد و شمار کے مطابق صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے، دسمبر کے دوران شدید سانس کی بیماری کے 22 مشتبہ کیسز کی اسکریننگ کی گئی، جن میں سے صرف چار کیسز کی تصدیق ہوئی اور تمام مریضوں نے علاج کے بعد مکمل صحتیابی حاصل کی۔
تصدیق شدہ کیسز کی تقسیم کے مطابق راولپنڈی میں تین کیسز رپورٹ ہوئے، جو سیٹلائٹ ٹاؤن، یونین کونسل 39، اور ریلوے کالونی سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ ایک کیس مری سے رپورٹ ہوا۔
محکمہ صحت کے ریپڈ رسپانس پروٹوکول کے تحت 18 قریبی رابطوں کی ٹریسنگ کی گئی، جن میں سے صرف ایک ثانوی کیس مثبت آیا، جو اس بات کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ بیماری کا پھیلاؤ محدود رہا۔ نشاندہی شدہ علاقوں میں فعال نگرانی کا عمل جاری ہے۔
عوام سے گزارش ہے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں، معمول کی صفائی، ہاتھ دھونے، اور سانس سے متعلق احتیاطی تدابیر اختیار کریں، کیونکہ مجموعی طور پر صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔