توشہ خانہ ٹو کیس: عمران خان اور بشری بی بی نے سزا کے خلاف الگ الگ اپیلیں دائرکردیں
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
توشہ خانہ ٹو کیس: عمران خان اور بشری بی بی نے سزا کے خلاف الگ الگ اپیلیں دائرکردیں WhatsAppFacebookTwitter 0 29 December, 2025 سب نیوز
اسلام آبادص(آئی پی ایس )بانی تحریک انصاف و سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس میں اپنی سزاں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں الگ الگ اپیلیں دائر کر دیں۔خصوصی عدالت نے 20 دسمبر کو اس کیس میں عمران خان اور بشری بی بی کو 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ یہ مقدمہ مئی 2021 کے سرکاری دورے کے دوران سعودی ولی عہد کی جانب سے عمران خان کو تحفے میں دیے گئے مہنگے بلغاری جیولری سیٹ کو انتہائی کم قیمت پر خریدنے سے متعلق تھا۔
سماعت کے دوران استغاثہ نے مقف اختیار کیا تھا کہ تحریک انصاف کے بانی نے تقریبا 8 کروڑ روپے مالیت کا زیورات کا سیٹ صرف 29 لاکھ روپے ادا کرکے اپنے پاس رکھا۔ڈان کو دستیاب اپیلوں کی نقول کے مطابق سزا کو سیاسی بنیادوں پر دیا گیا فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ موجودہ مقدمے کا بنیادی مقصد اپیل کنندہ کو مسلسل قید میں رکھنا، ملکی سیاست میں ان کی شرکت روکنا اور ان کے سیاسی کردار و اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے۔
اپیلوں میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ یہ کیس ابتدا میں قومی احتساب بیورو نے دائر کیا تھا، جسے بعد ازاں وفاقی تحقیقاتی ادارے کو منتقل کر دیا گیا۔اپیل میں کہا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے اختیار کیے گئے تفتیشی طریقہ کار کو نظر انداز کیا۔ واضح قانونی رہنمائی اور نظائر کی عدم موجودگی میں زیادہ احتیاط اور گہرے جائزے کی ضرورت تھی تاہم تحقیقاتی ادارے اور ٹرائل کورٹ دونوں نے عجلت میں کارروائی کی، جس کا ثبوت یہ ہے کہ ریکارڈ پر کوئی ایف آئی آر موجود نہیں۔
مزید کہا گیا کہ ایف آئی اے نے تفتیش شروع ہونے کے صرف دو دن کے اندر چالان جمع کرا دیا، جو شفاف اور منصفانہ تفتیش کے لیے ناکافی وقت تھا۔اپیلوں میں مقف اختیار کیا گیا ہے کہ توشہ خانہ ٹو کیس توشہ خانہ سے متعلق چوتھا مقدمہ ہے اور یہ دہری سزا کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ ایک ہی معاملے پر بار بار فوجداری کارروائی کی گئی۔اپیل کے مطابق نیب نے جان بوجھ کر تحائف کو الگ الگ حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصے پر مقدمہ چلایا جبکہ دیگر تحائف پر کارروائی مخر یا ترک کر دی، جو قانونا ناقابل قبول ہے۔
اپیل میں کہا گیا ہے کہ توشہ خانہ ون اور ٹو مختلف تحائف سے متعلق تھے، تاہم انہیں ایک ہی مشترکہ مقدمے کے طور پر سنا جانا چاہیے تھا۔اپیل میں مقف اختیار کیا گیا کہ ایک ہی ٹرائل کو متعدد کارروائیوں میں تقسیم کرنے کا مقصد اپیل کنندہ کو مسلسل قید میں رکھنا ہے۔مزید کہا گیا کہ سزا دیتے وقت 2018 کی توشہ خانہ پالیسی کو نظر انداز کیا گیا، جس کے مطابق تمام تحائف رپورٹ کر کے توشہ خانہ میں جمع کرانا لازم ہے۔ اسی پالیسی کی ایک شق کے تحت 30 ہزار روپے سے زائد مالیت کے تحائف مخصوص فیس ادا کر کے اپنے پاس رکھے جا سکتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرحماس نے اپنے عسکری ترجمان ابو عبیدہ کی شہادت کا اعلان کردیا حماس نے اپنے عسکری ترجمان ابو عبیدہ کی شہادت کا اعلان کردیا گلگت بلتستان میں بلدیاتی اور جنرل انتخابات ایک ہی مرحلے میں کرانے کا اعلان پاکستان تائیوان کو چین کا ناقابلِ تقسیم حصہ سمجھتا ہے: اسحاق ڈار صدر زرداری پر فلم بنا نے کا ارادہ ہے، ان جیسی شخصیت نہیں دیکھی: ڈائریکٹر ولی بلوچ جماعت اسلامی سے اتحاد، بنگلہ دیشی نوجوانوں پر مشتمل نئی پارٹی میں ٹھوٹ پڑ گئی شمالی کوریا کا طویل فاصلے تک مار کرنے والے اسٹریٹجک کروز میزائل کا تجربہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: توشہ خانہ ٹو کیس عمران خان اور الگ الگ
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔