عمران خان اور بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
عمران خان اور بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا WhatsAppFacebookTwitter 0 29 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:(آئی پی ایس)
بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کرنے کے لیے بانی تحریک انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلیں وکیل خالد یوسف چوہدری کے توسط سے دائر کردی گئی ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے بشریٰ بی بی کی اپیل پر ڈائری نمبر24561 لگادیا جب کہ عمران خان کی اپیل پر ڈائری نمبر24560 لگایا گیا ہے۔
عدالت میں دائراپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انعام اللہ شاہ جس کو بر طرف کیا جا چکا تھا عدالت نے اس کے بیان پر انحصار کیا ۔ عدالت نے وعدہ معاف گواہ کے بیان پر انحصار کیا جو نہیں کیا جا سکتا تھا ۔ استغاثہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف کیس ثابت کرنے میں ناکام رہی ۔
عدالت میں دائر درخواست میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کرتے ہوئے مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ایک ہی جرم میں متعدد مرتبہ سزا نہیں دی جا سکتی ۔ اسپیشل سینٹرل عدالت کو اختیار سماعت نہیں تھا ۔
اپیل میں مزید کہا گیا ہے کہ صہیب عباسی کو غیر قانونی طور پر سلطانی گواہ بنایا گیا ۔ بلغاری سیٹ توشہ خانہ قواعد کے مطابق سابق حکمران جوڑے نے اپنے پاس رکھا ۔ مقدمہ بغیر تفتیش قائم کیا گیا۔ سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ درخواست گزار سرکاری ملازم کی تعریف میں نہیں آتا ۔
درخواست میں اپیلوں کو جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، خودکش حملے کیلئے تیار کم عمر طالبہ کو ریسکیو کرلیا گیا کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، خودکش حملے کیلئے تیار کم عمر طالبہ کو ریسکیو کرلیا گیا آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کے جج جسٹس خالد یوسف چودھری نے حلف اٹھا لیا قائدِ حزبِ اختلاف کی تقرری، چیف ویپ کو چوتھا خط ارسال خواتین کیخلاف نازیبا سوشل میڈیا پوسٹ سے متعلق کیس: جرم کو سختی سے دیکھنا ہوگا، جج سپریم کورٹ کرسمس پر توڑ پھوڑ، بھارت میں اقلیتوں پر ظلم و ستم نہایت تشویشناک ہے: دفتر خارجہ کم آمدن افراد کیلئے پنجاب میں 37 ہزار سے زائد گھروں کا نیا منصوبہ شروعCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: عمران خان اور بشری گیا ہے
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں