عراقی پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر کا انتخاب ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
ھیبت حمد عباس الحلبوسی ایک عراقی سیاستدان ہیں جو 1980ء میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے بغداد کی المستنصریہ یونیورسٹی سے سیاسیات میں بیچلر اور ماسٹر کی ڈگریاں حاصل کیں۔ اسلام ٹائمز۔ "عدنان فیحان" عراقی پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر بن گئے۔ واضح رہے کہ آج پارلیمنٹ نے "ھیبت حمد عباس الحلبوسی" کو سپیکر منتخب کرنے کے کچھ ہی دیر بعد، "عدنان فیحان" کو ڈپٹی سپیکر آف پارلیمنٹ منتخب کر لیا۔ عراقی پارلیمنٹ کے چھٹے دور کے پہلے اجلاس میں ووٹنگ کے دوران، ھیبت حمد عباس الحلبوسی نے 208 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔ سپیکر کے لئے عراقی پارلیمنٹ میں 3 افراد کے درمیان مقابلہ تھا۔ اس دوران سب سے معمر رکنِ اسمبلی "عامر الفایز" نے بتایا کہ سپیکر کے انتخاب کے لئے ہونے والی ووٹنگ میں، 309 نمائندگان نے "عامر عبدالجبار"، "سالم العیساوی" اور ھیبت حمد عباس الحلبوسی کے حق میں ووٹ دیا۔ جن میں سے ھیبت حمد عباس الحلبوسی نے سب سے زیادہ 208 ووٹ حاصل کئے۔
عامر الفایز کے مطابق، 20 نمائندگان نے ووٹ نہیں دیا، سالم العیساوی نے 66 ووٹ حاصل کئے، عامر عبدالجبار کو 9 ووٹ ملے اور 26 ووٹ باطل قرار دئیے گئے۔ واضح رہے کہ ھیبت حمد عباس الحلبوسی ایک عراقی سیاستدان ہیں جو 1980ء میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے بغداد کی المستنصریہ یونیورسٹی سے سیاسیات میں بیچلر اور ماسٹر کی ڈگریاں حاصل کیں۔ وہ مجلس نمائندگان کے چوتھے اور پانچویں دور میں تیل و توانائی کمیٹی کے سربراہ رہے۔ قابل غور بات ہے کہ ھیبت حمد عباس الحلبوسی، محمد الحلبوسی کی قیادت میں بننے والی "تقدم" پارٹی کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ پارلیمنٹ میں اس پارٹی کے پارلیمانی سربراہ بھی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ھیبت حمد عباس الحلبوسی عراقی پارلیمنٹ
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :