هیبت حمد عباس الحلبوسی عراقی پارلیمنٹ کے سپیکر بن گئے
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
اہلسنت سیاسی اتحاد کیجانب سے سپیکر کیلئے مثنیٰ السامرائی کا نام بھی سامنے آیا۔ تاہم عراقی سیاسی کونسل سے کشمکش کے بعد مثنیٰ السامرائی مذکورہ کونسل سے الگ ہو گئے۔ اسلام ٹائمز۔ آج عراق کی مجلس نمائندگان کے چھٹے دور کا پہلا اجلاس بغداد میں منعقد ہوا۔ جس میں "ھیبت حمد عباس الحلبوسی" کو پارلیمنٹ کا نیا اسپیکر منتخب کر لیا گیا۔ اس حوالے سے عراقی پارلیمنٹ کے شعبۂ اطلاعات نے بتایا کہ اسپیکر کے انتخاب کے وقت 309 ارکانِ پارلیمنٹ، اجلاس میں موجود تھے۔ واضح رہے کہ ھیبت حمد عباس الحلبوسی 1980ء میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے بغداد کی مستنصریہ یونیورسٹی سے سیاسیات میں گریجویشن اور ماسٹر کی ڈگری مکمل کی۔ وہ مجلس نمائندگان کے چوتھے اور پانچویں دور میں تیل و توانائی کمیٹی کے سربراہ رہے۔ انہوں نے اس منصب پر توانائی کے معاملات کی پیروی میں اہم کردار ادا کیا۔ قابل غور بات ہے کہ ھیبت حمد عباس الحلبوسی، محمد الحلبوسی کی قیادت میں بننے والی "تقدم" پارٹی کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ پارلیمنٹ میں اس پارٹی کے پارلیمانی سربراہ بھی ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ شب اہلِ سنت کی سیاسی جماعتوں نے ھیبت حمد عباس الحلبوسی کو اسپیکر کے منصب کے لئے باضابطہ امیدوار نامزد کیا۔ دوسری جانب اہلسنت سیاسی اتحاد کی جانب سے سپیکر کے لئے مثنیٰ السامرائی کا نام بھی سامنے آیا۔ تاہم عراقی سیاسی کونسل سے کشمکش کے بعد مثنیٰ السامرائی مذکورہ کونسل سے الگ ہو گئے۔ بہرحال آج کے اجلاس سے پہلے تک سپیکر کے لئے وہ ایک مضبوط امیدوار تھے۔ لیکن اجلاس میں آتے ساتھ ہی انہوں نے ہیبت حمد عباس الحلبوسی کے حق میں اپنی دستبرداری کا اعلان کیا۔ جس کے بعد سب نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ البتہ عراقی میڈیا کا کہنا ہے کہ اجلاس کے شروع ہوتے ساتھ ہی مثنیٰ السامرائی اور ان کی جماعت کے اراکین، اسمبلی سے واک آوؑٹ کر گئے، جنہیں الفتح اتحاد اور البدر تنظیم کے سربراہ "ہادی العامری" کی مداخلت سے اجلاس میں واپس لایا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ھیبت حمد عباس الحلبوسی کونسل سے سپیکر کے
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،