میٹا انسٹاگرام کو نوجوانوں کیلیے دوبارہ پرکشش بنانے کے لیے نئی حکمت عملی تیار
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن:ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نوجوان صارفین کو دوبارہ اپنی جانب راغب کرنے کے لیے انسٹاگرام کی پالیسی اور فیچرز پر ازسرنو غور کر رہی ہے۔ کمپنی کے اندرونی جائزوں کے مطابق حالیہ برسوں میں نوجوانوں کی دلچسپی میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، خاص طور پر ترقی یافتہ ممالک میں، جہاں ٹک ٹاک اور یوٹیوب تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔
میٹا نے نوجوان صارفین کی واپسی کو اپنی اعلیٰ ترجیحات میں شامل کر لیا ہے، اس مقصد کے لیے پلیٹ فارم کے الگورتھم میں تبدیلی، نوجوانوں کے لیے مخصوص فیچرز میں بہتری، اور کانٹینٹ کریئیٹرز کے ساتھ شراکت داری بڑھانے پر کام کیا جا رہا ہے تاکہ انسٹاگرام دوبارہ نوجوان نسل کے لیے پرکشش اور محفوظ بن سکے۔
یہ اقدامات ایسے وقت کیے جا رہے ہیں جب میٹا کو شدید قانونی اور حکومتی دباؤ کا سامنا ہے، امریکا کی 40 سے زائد ریاستوں نے کمپنی پر الزامات عائد کیے ہیں کہ اس کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نوجوانوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات ڈال رہے ہیں، جس کے باعث سخت قوانین متعارف کروانے کی بات کی جا رہی ہے۔
نوجوانوں کے تحفظ کے لیے میٹا پہلے ہی ٹین اکاؤنٹس متعارف کر چکا ہے، جن میں خودکار طور پر سخت پرائیویسی سیٹنگز نافذ ہوتی ہیں۔ ان اکاؤنٹس میں اجنبی افراد کے پیغامات، حساس مواد اور نقصان دہ سرگرمیوں تک رسائی محدود کر دی جاتی ہے تاکہ کم عمر صارفین کے لیے محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔