جماعت اسلامی سے اتحاد، بنگلہ دیشی نوجوانوں پر مشتمل نئی پارٹی میں ٹھوٹ پڑ گئی
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
جماعت اسلامی سے اتحاد، بنگلہ دیشی نوجوانوں پر مشتمل نئی پارٹی میں ٹھوٹ پڑ گئی WhatsAppFacebookTwitter 0 29 December, 2025 سب نیوز
ڈھاکہ (آئی پی ایس )بنگلہ دیش کی نئی سیاسی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی کو اگلے عام انتخابات سے قبل اندرونی خلفشار کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے۔خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق سابق وزیراعظم حسینہ واجد کی حکومت کو احتجاجی تحریک سے ختم کرنے کا باعث بننے والی جنریشن زی کی سیاسی پارٹی کے جماعت اسلامی کے ساتھ انتخابی اتحاد نے اس کے مستقبل کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
گزشتہ برس 2024 میں احتجاجی تحریک کے نتیجے میں جنم لینے والی نیشنل سٹیزن پارٹی کے کم از کم 30 رہنماں نے جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کو کھل کر تنقید کا نشانہ بنایا اور مخالفت کی۔بنگلہ دیش کی آبادی کی اکثریت مسلمان ہے اور ملک میں اگلے سال 12 فروری کو عام انتخابات منعقد ہونے ہیں۔انتخابی اتحاد سے قبل کیے گئے رائے عامہ کے جائزوں میں پیش گوئی کی گئی تھی کہ جماعت اسلامی دوسرے نمبر پر ہے جبکہ سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) پہلے نمبر پر تھی۔اوپینیئن پولز کے مطابق نیشنل سٹیزن پارٹی تیسرے نمبر پر تھی۔
ڈھاکہ کے ایک ماہر تعلیم ایچ ایم ناظم العالم نے اس حوالے سے کہا کہ نئی پارٹی نے خود کو روایتی طاقت کے ڈھانچے کے متبادل کے طور پر نوجوان قیادت پر مشتمل ہونے کی وجہ سے پیش کیا۔ یہ شناخت اب شدید دبا ئو میں ہے۔ناظم العالم کے مطابق نوجوانوں کی بنیاد پر چلنے والی تحریکیں صرف اس وجہ سے نہیں ٹوٹتیں کہ وہ الیکشن ہار جاتی ہیں، وہ اس وقت ٹوٹ جاتی ہیں جب وہ واضح اور اندرونی اتحاد کھو بیٹھتی ہیں۔نئی پارٹی کی تشکیل رواں سال کے آغاز میں احتجاجی تحریک میں شامل رہنماں نے کی تھی۔ تحریک نے اگست 2024 میں طویل عرصے سے وزیراعظم کے طور پر موجود شیخ حسینہ واجد کو بے دخل کر کے انہیں انڈیا فرار ہونے پر مجبور کیا تھا۔
نیشنل سٹیزن پارٹی میں بڑی تعداد ایسے نوجوانوں کی ہے جو 1990 کی دہائی کے اواخر میں پیدا ہوئے اور جن کو جنریشن زی یا جین زی پکارا جاتا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد قوم کو دہائیوں کی اقربا پروری اور حسینہ کی عوامی لیگ اور بی این پی کے تسلط سے نجات دلانا ہے۔حسینہ واجد کی عوامی لیگ پر پابندی کے باعث ووٹ بی این پی اور جماعت اسلامی کے درمیان براہ راست مقابلہ ہوگا۔جماعت اسلامی اپنی حریف دونوں جماعتوں سے بہت پیچھے رہ گئی ہے کیونکہ سنہ 2013 کے بعد سے پابندی کے باعث اس نے کوئی الیکشن نہیں لڑا۔
نیشنل سٹیزن پارٹی کے سربراہ ناہید اسلام نے اتوار کو پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ان کے 32 سالہ رہنما شریف عثمان ہادی کے قتل کے بعد جماعت کو اگلے الیکشن میں دیگر پارٹیوں کے ہم پلہ رکھنے کے لیے انتخابی اتحاد ضروری تھا۔ان کے مطابق بعض قوتیں انتخابی عمل کو تشدد کے ذریعے ڈیل ری کرنا چاہتی ہیں ایسی صورتحال سے بھی نمٹنا ہے۔ہم نے جس ڈکٹیٹرشپ کو اقتدار سے ہٹایا وہ الیکشن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس لیے ایک بڑے اتحاد کے لیے ہم نے جماعت اسلامی کے ساتھ انتخابی اتحاد پر اتفاق کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پارٹی کے اندر اکثریتی فیصلہ تھا لیکن اس کی ممکنہ طور پر کچھ مخالفت ہوگی اور ایسے لوگ اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرشمالی کوریا کا طویل فاصلے تک مار کرنے والے اسٹریٹجک کروز میزائل کا تجربہ شمالی کوریا کا طویل فاصلے تک مار کرنے والے اسٹریٹجک کروز میزائل کا تجربہ باجوڑ میں سیکیورٹی آپریشن کے دوران پانچ خوارج ہلاک، میجر شہید سہیل آفریدی کا پنجاب حکومت کو خط، پروٹوکول سے متعلق تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی ، ارکانِ اسمبلی سے سفری وا ئوچرز کی تفصیلات طلب کر لیں نائب وزیراعظم کی زیر صدارت وزیراعظم کے دورہ ڈیووس کی تیاریوں پر بریفنگ اسپیکر قومی اسمبلی کی ہدایت پر چیف ویپ حزب اختلاف کو خط ارسال،سابق قائدِ حزبِ اختلاف سے متعلق زیرالتوا مقدمات کی تفصیلات طلب کر...
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی نئی پارٹی
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔