ٹیکس قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر وسطی پنجاب میں دو شوگر ملز سیل
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مطابق ٹیکس قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر وسطی پنجاب میں دو شوگر ملز سیل کردیں۔
ایف بی آر کے مطابق یہ اقدام ٹیکس قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے مطابق کیا گیا ہے، ہائی رسک سیکٹرز میں سیلز ٹیکس قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔
ایف بی آر کے مطابق تمام انفورسمنٹ اقدامات قانون کے مطابق اور شفافیت کو یقینی بناتے ہوئے کیے جا رہے ہیں۔ قانون کی پابندی کرنے والے ٹیکس دہندگان کے لیے مساوی مسابقتی ماحول برقرار رکھا جا ئے گا۔
ایف بی آر کے مطابق رضاکارانہ عملدرآمد کرنے والی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ٹیکس قوانین کے مطابق
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔