امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔ یہ رابطہ اس ملاقات کے ایک دن بعد ہوا جب صدر ٹرمپ نے فلوریڈا میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی تھی۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ صدر ٹرمپ نے یوکرین کے معاملے پر صدر پیوٹن کے ساتھ ایک مثبت کال مکمل کی ہے، جس کے ساتھ ہی انہوں نے دو دن میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی دوسری گفتگو کی تصدیق کی۔

مزید پڑھیں: یوکرین نے صدر پیوٹن کی رہائشگاہ کو ڈرون سے نشانہ بنانے کی کوشش کی، روس کا الزام

روسی صدر کے خارجہ امور کے معاون یوری اوشاکوف نے بھی دونوں صدور کے درمیان ٹیلی فونک رابطے کی تصدیق کی، جس کی خبر روسی سرکاری نیوز ایجنسی نے دی۔ اوشاکوف کے مطابق صدر پیوٹن کو صدر ٹرمپ اور ان کے سینیئر مشیروں کی جانب سے یوکرین کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پر بریفنگ دی گئی۔

یہ فون کال ایسے وقت میں ہوئی جب ماسکو نے کیف پر شمالی روس میں صدر پیوٹن کی رہائش گاہ پر ڈرون حملہ کرنے کا الزام عائد کیا اور خبردار کیاکہ وہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی مذاکراتی پوزیشن پر نظرِ ثانی کرے گا۔

یوری اوشاکوف نے کہاکہ صدر پیوٹن نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ یوکرینی ڈرون حملے کے بعد روس امن مذاکرات میں اپنی پوزیشن کا جائزہ لے گا۔

دوسری جانب یوکرینی صدر زیلنسکی نے روس پر امریکا کی قیادت میں ہونے والی سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کا الزام لگایا۔

زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر کہاکہ روس ایک بار پھر خطرناک بیانات دے کر صدر ٹرمپ کی ٹیم کے ساتھ ہماری مشترکہ سفارتی کوششوں کی تمام کامیابیوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے صدر پیوٹن کی رہائش گاہ پر مبینہ حملے کو مکمل من گھڑت قرار دیا اور کہاکہ اسے یوکرین پر مزید حملوں کے جواز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہاکہ یوکرین نے نوگوروڈ ریجن میں صدر پیوٹن کی رہائش گاہ پر 91 طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز سے حملے کی کوشش کی۔

ان کا دعویٰ تھا کہ تمام ڈرونز کو تباہ کر دیا گیا اور کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ لاوروف نے اس حملے کو ریاستی دہشتگردی قرار دیا اور کہا کہ ماسکو نے ممکنہ جوابی کارروائی کے لیے اہداف پہلے ہی منتخب کر لیے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے 28 دسمبر کو مار اے لاگو میں یوکرینی صدر زیلنسکی کی میزبانی کی، جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان دو گھنٹے سے زیادہ دورانیے کی دوطرفہ بات چیت ہوئی، جس کے بعد یورپی رہنماؤں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس بھی منعقد کی گئی۔

اس ملاقات سے قبل صدر ٹرمپ نے صدر پیوٹن سے فون پر بات کی تھی۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ زیلنسکی سے ملاقات سے پہلے پیوٹن کے ساتھ ان کی اچھی اور نہایت نتیجہ خیز گفتگو ہوئی۔

زیلنسکی کے ساتھ مذاکرات کے بعد صدر ٹرمپ نے کہاکہ قریباً چار سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ اہم مسائل ابھی حل طلب ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ ابھی حل نہیں ہوا، لیکن کافی قریب آ چکا ہے۔ وہ روس اور یوکرین کے درمیان علاقائی تنازع کا حوالہ دے رہے تھے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ معاہدہ چند ہفتوں میں طے پا سکتا ہے، تاہم اس کی کوئی ضمانت نہیں۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ یوکرین میں ریفرنڈم کے انتظامات کے دوران عارضی جنگ بندی قابلِ عمل نہیں ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ بندی نہیں ہے، اور یہی ان نکات میں سے ایک ہے جن پر ہم اس وقت کام کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ امن کے حامی ہیں اور انہیں یقین ہے کہ کوئی حل نکل آئے گا۔

کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے کہاکہ دونوں صدور اس بات پر عمومی طور پر متفق تھے کہ یوکرینی اور یورپی ممالک کی جانب سے تجویز کردہ عارضی جنگ بندی تنازع کو طول دے گی اور دوبارہ لڑائی شروع ہونے کا باعث بن سکتی ہے۔

چار فریقی معاہدے کی خواہش

پیر کے روز صدر زیلنسکی نے صحافیوں کو بتایا کہ کسی بھی امن منصوبے کی توثیق چار فریقوں کی جانب سے ہونی چاہیے جن میں یوکرین، روس، امریکا اور یورپ شامل ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی منصوبے پر چاروں فریقوں، یوکرین، یورپ، امریکا اور روس کے دستخط ضروری ہیں۔

کیف نے جنگ کے خاتمے کے لیے دستاویزات کی تیاری شروع کرنے کی غرض سے یورپی اور امریکی حکام کے ساتھ مشاورتی سطح پر اجلاس کی میزبانی کی بھی تجویز دی ہے۔

زیلنسکی کے مطابق سلامتی کی ضمانتیں یوکرین کی اولین ترجیح ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے 15 سالہ ضمانتوں کی پیشکش کی ہے، جن میں توسیع کا امکان بھی موجود ہے، تاہم یوکرین اس سے کہیں طویل مدت چاہتا ہے۔

زیلنسکی نے کہا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ سے 30، 40 یا 50 سال کی ضمانتوں پر غور کرنے کی درخواست کی ہے، جس پر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس پر غور کریں گے۔

دیگر حل طلب مسائل میں علاقائی تنازعات اور زاپوریزہیا جوہری بجلی گھر کا معاملہ بھی شامل ہے، جو اس وقت روس کے کنٹرول میں ہے۔ زیلنسکی نے سلامتی کی ضمانتوں کے حصے کے طور پر یوکرین میں بین الاقوامی فوجی دستوں کی تعیناتی کا مطالبہ بھی کیا، جسے روس پہلے ہی مسترد کر چکا ہے۔

کریملن کے مطالبات

دوسری جانب ماسکو نے اپنے دیرینہ مطالبات کو دہرایا، جن میں یوکرین کا ڈونباس کے بعض علاقوں سے انخلا بھی شامل ہے۔

روسی افواج مشرقی یوکرین میں مزید علاقوں پر قبضہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس بات پر اصرار کرتی ہیں کہ وہ اپنے زیرِ کنٹرول تمام علاقے برقرار رکھیں گی۔ پیر کے روز ماسکو نے ڈونیٹسک میں دیبرووا نامی گاؤں پر قبضے کی اطلاع دی۔

فلوریڈا میں ہونے والی ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ اور صدر زیلنسکی نے حل طلب مسائل کے لیے ورکنگ گروپس کے قیام کا اعلان کیا۔

زیلنسکی نے کہاکہ امن منصوبے کا قریباً 90 فیصد حصہ طے پا چکا ہے، جبکہ امریکا اور یوکرین کے درمیان سلامتی کی ضمانتیں سو فیصد طے ہو چکی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ یوکرین ریفرنڈم کے بجائے پارلیمنٹ کے ذریعے معاہدے کی منظوری دے سکتا ہے۔

یورپی رہنماؤں کا ردِعمل

ادھر روس کے نائب وزیر خارجہ الیگزینڈر گروشکو نے کہاکہ روس، یوکرین کی تازہ ترین اشتعال انگیزیوں میں برطانیہ کے اثر و رسوخ کو دیکھ رہا ہے، جن کا مقصد امن عمل کو سبوتاژ کرنا ہے۔

ویڈیو لنک کے ذریعے مذاکرات میں شامل یورپی رہنماؤں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ کوئی بھی معاہدہ روس کو مزید حوصلہ دے سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ پیوٹن ملاقات: امن معاہدے پر پیشرفت، روس یوکرین جنگ بندی کا اعلان نہ ہوسکا

فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے اعلان کیاکہ یوکرین کے اتحادیوں کا ایک اور اجلاس جنوری کے آغاز میں پیرس میں منعقد کیا جائے گا۔

صدر زیلنسکی نے کہاکہ وہ اور یورپی رہنما آئندہ ماہ واشنگٹن میں صدر ٹرمپ کے ساتھ بات چیت کے لیے مشترکہ طور پر دوبارہ آ سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امن کی کوششیں ڈونلڈ ٹرمپ زیلنسکی وی نیوز یوکرین جنگ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امن کی کوششیں ڈونلڈ ٹرمپ زیلنسکی وی نیوز یوکرین جنگ صدر زیلنسکی نے صدر پیوٹن کی ٹرمپ نے کہا میں یوکرین یوکرین جنگ یوکرین کے کے درمیان کہ یوکرین نے کہا کہ انہوں نے ماسکو نے نے کہاکہ کے ساتھ کی کوشش کے بعد تھا کہ کے لیے

پڑھیں:

3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی

اسلام ٹائمز: یہ محض ایک جنازہ نہ تھا بلکہ ایک عہد کی رخصتی کا منظر تھا۔ ایک ایسا لمحہ جس میں کروڑوں دل ایک ساتھ دھڑک رہے تھے، ایک ساتھ رو رہے تھے اور ایک ساتھ اپنے قائد کو الوداع کہہ رہے تھے۔ تاریخ نے شاید ہی کبھی ایسا دردناک اور پُرہجوم منظر دیکھا ہو، جہاں عقیدت، محبت، اشک اور جدائی سب ایک ہی منظر میں سمٹ آئے ہوں۔ یوں امام خمینی مٹی کی آغوش میں اتر گئے، مگر ان کی یاد، ان کا پیغام اور ان کا اثر لاکھوں دلوں میں ہمیشہ کے لیے نقش ہوگیا۔ تحریر: ڈاکٹر نذر حافی

3 جون 1989ء (13 خرداد 1368 ہجری شمسی) کی شام جب امام خمینیؒ کی رحلت کی خبر آہستہ آہستہ تہران کی فضا میں پھیلنے لگی تو گویا ایک قوم پر سکوتِ غم  طاری ہوگیا۔ وہ شخصیت جس کی آواز نے انقلاب کو جنم دیا تھا، اب خاموش ہو چکی تھی۔ آنکھیں اشک بار تھیں، دل سوگوار تھے اور فضائیں غم و اندوہ سے بوجھل تھیں۔ سید حسن عارفی نے  3 جون 1989ء کے حوالے سے اپنی یادداشت طبیبِ دلھا میں لکھا ہے کہ 3 جون 1989ء (13 خرداد 1368 ہجری شمسی) کی نصف شب سے حضرت امام خمینیؒ کا بلڈ پریشر گرنا شروع ہوگیا اور غنودگی میں اضافہ ہونے لگا۔ صبح 5 بجے، اگرچہ جسم کا درجۂ حرارت 36 ڈگری سینٹی گریڈ تھا، لیکن امام عزیزؒ کو سردی محسوس ہو رہی تھی۔

3 جون 1989ء کی صبح 9 بج کر 14 منٹ پر ہمارے عزیز امام کو دل کی دھڑکن تیز ہونے، کمزوری، نقاہت اور شریانی بلڈ پریشر کے بتدریج کم ہونے کی علامات ظاہر ہوئیں۔ صبح 10 بجے ڈاکٹر سیم فروش نے ضروری طبی اقدامات کیے، اور گردوں کے اخراجی مسئلے کے باعث ڈاکٹر قدس اور ڈاکٹر رہبر کو بھی طلب کیا گیا۔ نس میں دی جانے والی رطوبت (سرم) اور خون کے پروٹین کی تیاری (البیومن) دیے جانے کے باوجود، اور پیشاب کے اخراج میں رکاوٹ کی وجہ سے، بلڈ پریشر مسلسل کم ہوتا جا رہا تھا۔ حضرت امام قدرے غنودگی میں تھے، لیکن مکمل طور پر ہوش و حواس میں تھے۔

حضرت امام کی حالت کی سنگینی سے اہلِ خانہ، قریبی افراد اور ملکی ذمہ داران کو آگاہ کر دیا گیا۔ طبی ٹیم کے تمام ارکان کو طلب کر لیا گیا۔ امام عزیز ملاقاتوں، لوگوں کی آمد و رفت اور اپنی بگڑتی ہوئی حالت سے پوری طرح باخبر تھے اور مسلسل ذکرِ الٰہی میں مشغول تھے۔ وہ برابر سورۂ حمد اور دیگر سورتیں تلاوت کر رہے تھے اور جانتے تھے کہ وہ اپنی بابرکت زندگی کے آخری لمحات گزار رہے ہیں۔ حضرت امام خمینی نے دوپہر کی نماز عین شرعی وقت پر ادا کی اور دوپہر کے کھانے میں صرف مائعات (پانی اور پتلی اشیاء) استعمال کیے۔ دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر انہیں پہلی مرتبہ قے ہوئی، اور انہوں نے فوراً حکم دیا کہ ان کے تمام کپڑے بدل دیے جائیں اور بستر کی چادریں بھی تبدیل کر دی جائیں۔

شام 3 بجے دل کی دھڑکن مزید سست ہوگئی۔ اپنی بابرکت زندگی کے آخری لمحات میں بھی وہ پوری ہوشیاری اور سختی سے اپنی ظاہری صفائی اور پاکیزگی کا خیال رکھتے تھے۔ وہ مسلسل سورۂ حمد اور دیگر سورتیں پڑھتے رہے اور بخوبی جانتے تھے کہ یہ آخری لمحات ہیں۔ تقریباً 3 بجے، بیماری اور شریانی بلڈ پریشر کے شدید زوال کے باعث پیدا ہونے والی کمزوری اور ناتوانی کے عالم میں انہوں نے بلند آواز سے مجھے پکارا۔ میں نے اپنا سر اور کان ان کے لرزتے ہوئے ہونٹوں کے قریب کیے اور عرض کیا: "آقا جان! فرمائیے، میں حاضر ہوں۔" انہوں نے فرمایا: "اگر وضو وقتِ نماز داخل ہونے سے پہلے کیا جائے تو نیت اس طرح ہونی چاہیئے۔"

میں نے فوراً حاج احمد آقا خمینی اور حجت الاسلام و المسلمین جناب آشتیانی کو، جو قریب ہی موجود تھے، ان کی خدمت میں بلا لیا۔ دراصل ان کی آخری درخواست مجھے بلانا تھی اور ان کی آخری گفتگو ایک شرعی اور فقہی مسئلے سے متعلق تھی۔ دوپہر 2 بج کر 59 منٹ پر ان کا دل، سامنے موجود نوارِ قلب (الیکٹرو کارڈیوگرام) کے مطابق دھڑک رہا تھا اور بلڈ پریشر مسلسل گر رہا تھا، لیکن امام عزیز مسلسل سورۂ حمد اور دیگر سورتوں کی تلاوت میں مشغول رہے۔ اگرچہ بلڈ پریشر بہت کم ہو چکا تھا، پھر بھی ان  کے ہوش و حواس قائم تھے۔

اب اہلِ خانہ ایک ایک کر کے پروانوں کی طرح ان کے وجود کی شمع کے گرد جمع ہو رہے تھے، لیکن یہ روشن اور عالم تاب چراغ بجھنے کے قریب تھا۔ ہر لمحہ اس کی نورانی روشنی کم ہوتی جا رہی تھی اور ہمارے دلوں کا غم بڑھتا جا رہا تھا۔ اس وقت جب حضرت امام عزیز کو شدید سانس کی تنگی اور شدید دل کی دھڑکن تکلیف دے رہی تھی اور ان کا بلڈ پریشر انتہائی حد تک گر چکا تھا جس کے باعث جسم کے تمام اعضاء کو خون کی فراہمی متاثر ہوگئی تھی، اور ساتھ ہی کینسر کے خلیات پورے جسم میں پھیل چکے تھے، ہم یہ مشاہدہ کر رہے تھے کہ یہ بے مثال ہستی اس شدید بیماری کے باوجود اپنی صفائی، پاکیزگی اور ظاہری آراستگی کا خاص خیال رکھ رہی تھی۔ اگرچہ پچھلے چند دنوں سے امام عزیز شدید غنودگی کا شکار تھے، لیکن وہ نمازوں کے اوقات کی سختی سے پابندی کرتے اور انہیں وقت پر ادا کرنے کے خواہش مند رہتے تھے۔

اس دن بھی صبح 9 بجے کے بعد ان کی حالت تیزی سے بگڑنے لگی اور بلڈ پریشر مسلسل گرنا شروع ہو گیا۔ غنودگی میں اضافہ تھا، لیکن کبھی کبھار وہ آنکھیں کھول کر اردگرد دیکھتے تھے۔ دوپہر 12 بجے سے پہلے کئی بار فرمایا کہ انہیں نمازِ ظہر کا وقت بتایا جائے۔ اس کے بعد وضو اور تیمم کے امتزاج کے ساتھ، شدید کم بلڈ پریشر، تیز دل کی دھڑکن (نوارِ قلب کے مطابق) اور شدید سانس کی تکلیف کے باوجود، محترم جناب حجت الاسلام والمسلمین حاج محمد علی انصاری کے تعاون سے انہوں نے اپنی آخری نمازِ ظہر و عصر ادا فرمائی۔ ان نازک لمحات میں جب امام کی ذات شدید بیماریوں کے خطرے میں تھی، انہوں نے امام حسین علیہ السلام کی سنت پر عمل کرتے ہوئے، جو یومِ عاشورا کے وقت نماز ادا فرماتے ہیں، اس نماز کے ذریعے اپنے مشن کا پیغام عملی طور پر لاکھوں عقیدت مندوں تک پہنچایا۔

ہم انتہائی تکلیف دہ اور مشکل لمحات سے گزر رہے تھے۔ امام عزیز، جن کی کم ہوتی ہوئی بلڈ پریشر نے انہیں شدید کمزوری اور ناتوانی میں مبتلا کر دیا تھا، کبھی کبھار آنکھیں کھول کر اردگرد دیکھتے تھے۔ میں نے یہ احساس دلانے کے لیے کہ آخری لمحات میں بھی طبی ٹیم، خصوصاً میں، ان کی خدمت میں موجود ہے، ان کے دائیں ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ حضرت امام نے محسوس کیا کہ آخری وقت میں محبت، عقیدت اور والد و اولاد جیسے پاک جذبات کا تبادلہ ہو رہا ہے، اور ساتھ ہی مرید و مراد کا رشتہ بھی قائم ہے۔ اس لمحے کے بعد انہوں نے میرا ہاتھ بالکل نہ چھوڑا، اور میں بھی یہ جانتے ہوئے کہ آخری لمحات میں مریض کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے، مسلسل مانیٹر پر ان کی دل کی دھڑکن دیکھتا رہا اور ان کا ہاتھ نرمی سے تھامے رکھا۔شام 3 بج کر 46 منٹ پر دل کی دھڑکن تیز اور بے ترتیب ہو گئی، اور یہ روشنی امیدوں کے افق پر مدھم پڑنے لگی۔

بلڈ پریشر کا مسلسل گرنا، دل کی دھڑکن کا بے ترتیب اور تیز ہونا، اور علاج کا مؤثر جواب نہ دینا، حضرت امام کی حالت کی شدید خرابی کو ظاہر کر رہا تھا، اور ہر لمحہ کسی بڑے حادثے کا خدشہ بڑھ رہا تھا۔ اسی لیے طبی ٹیم، سرجنز اور نرسیں جدید ترین طبی آلات کے ساتھ امام کے بستر کے قریب موجود تھیں تاکہ فوری اقدامات کیے جا سکیں۔ اچانک شام 3 بج کر 58 منٹ پر دل کے اوپر والے حصے سے نیچے والے حصے تک برقی ترسیل بند ہوگئی، جس کے نتیجے میں دل میں بے ترتیبی (فبریلیشن) پیدا ہوئی اور بلڈ پریشر صفر ہو گیا۔

شام 3 بج کر 58 منٹ پر نوارِ قلب کے مطابق دل نے حرکت بند کر دی، تاہم مکمل طبی تیاری کے ساتھ بار بار برقی جھٹکے (الیکٹروشاک)، سینے پر بیرونی پیس میکر (بجلی سے چلنے والا آلہ) لگانا، سانس کی نالی میں ٹیوب ڈال کر مصنوعی تنفس سے جوڑنا، عارضی طور پر دل کی دھڑکن اور سانس کو بحال کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن امام عزیز اس وقت بے ہوشی کی حالت میں تھے۔

شام 10 بج کر 22 منٹ پر پیس میکر (بیرونی برقی محرک آلہ) کام کر رہا تھا، لیکن دل کے عضلات اس کی دی گئی تحریکوں کے باوجود سکڑ نہیں رہے تھے۔ شام 10 بج کر 23 منٹ پر حضرت امام عزیز کا دل، جو اپنی پوری زندگی میں ہر منٹ تقریباً 60 سے 70 مرتبہ، ہر گھنٹے تقریباً 3600 مرتبہ، ہر روز 86400 مرتبہ، ہر سال تقریباً 30936000 مرتبہ، اور اپنی 90 سالہ بابرکت عمر میں مجموعی طور پر تقریباً 2784240000 مرتبہ اللہ کی رضا، اسلام کی سربلندی، کلمۂ لا الٰہ الا اللہ کی بلندی، مستضعفین کی آزادی، ایرانی قوم اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی عزت و سربلندی کے لیے دھڑکا تھا، اپنی آخری دھڑکن کے ساتھ ہمیشہ کے لیے رک گیا، اور اپنے چاہنے والوں اور عاشقوں کو غم و اندوہ میں ڈبو گیا۔
’’بگذار تا بگریم چون ابر در بہاران ۔۔۔ کز سنگ نالہ خیزد وقتِ وداع یاران‘‘
اور اس آخری دھڑکن کے ساتھ، انسانیت نے علم، تقویٰ، ایمان، استقامت، تسلیم نہ ہونے والے جذبے اور ایثار کے پیکر پر ایک گہرا اور کاری صدمہ محسوس کیا۔ انہوں نے اس دنیا سے آنکھیں بند کر لیں، لیکن اسلام کی اشاعت اور اس رہنما مکتب کے ذریعے لاکھوں سوئے ہوئے دلوں کو بیدار کر دیا:
’’ای خوش آن رہبر کہ بعد از مرگ زاد ۔۔۔ چشمِ خود بست و چشمِ ما گشاد‘‘
بے شک اس کی روشن شمعِ حیات ظاہراً بجھ گئی تھی، لیکن یہ وہ چراغ تھا جو قافلۂ انسانیت کے حسینی کرداروں کے دل میں ہمیشہ روشن رہتا ہے اور روشنی بکھیرتا رہتا ہے۔ ان کی حیات ایک ایسی نورانی روشنی تھی جس نے 90 سال تک ہماری تاریک دنیا کو منور اور گلزار بنایا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے لیے، ان کے چاہنے والوں اور فرزندوں کے لیے، وہ رخصت نہیں ہوئے۔ وہ زندہ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ وہ ہمارے راستے کا چراغ ہیں۔ خدا کی قسم، وہ ہمارے وجود کے ذرے ذرے میں، ہمارے خلیوں، حتیٰ کہ ایٹموں (پروٹونز اور نیوٹرانز) تک میں موجود ہیں، اور جب تک ہم زندہ ہیں، ان کی یاد، ان کی تعلیمات اور ان کے انسان ساز اسلامی پیغام کے تابع رہیں گے:
“ہرگز نمیرد آنکہ دلش زنده شد به عشق ۔۔۔ ثبت است بر جریدۂ عالم دوامِ ما”
سید حسن عارفی کی یادادشت کے بعد اب آیئے  4 جون 1989ء (14 خرداد 1368 ہجری شمسی) کی غمگین اور سوگوار صبح پر ایک نگاہ ڈالئے۔ صبح سویرے ریڈیو سے خبرِ ارتحال نشر ہوئی تو لاکھوں دلوں پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ مرد، عورتیں، بوڑھے اور نوجوان سب اپنے محبوب رہبر کی آخری جھلک پانے کے لیے بے تاب تھے۔ جب جسدِ خاکی مصلیٰ تہران میں رکھا گیا تو اشکوں کا ایک سمندر امڈ آیا۔ ہر آنکھ نم تھی اور ہر زبان پر دعا و درود جاری تھا۔

6 جون 1989ء (16 خرداد 1368 ہجری شمسی) کو نمازِ جنازہ کے بعد جب تدفین کے لیے پیکرِ امام کو بہشتِ زہرا کی جانب لے جایا گیا تو جذبات کا طوفان اس قدر شدید تھا کہ لاکھوں سوگوار اپنے آنسوؤں اور عقیدت پر قابو نہ رکھ سکے۔ ہجوم بڑھتا گیا، انتظامات ٹوٹتے گئے، اور ایک ایسا منظر سامنے آیا جس نے ہر دیکھنے والے کو رُلا دیا۔ تابوت مجمع کے دباؤ میں آ گیا، اور تدفین کا عمل وقتی طور پر روکنا پڑا۔

یہ محض ایک جنازہ نہ تھا بلکہ ایک عہد کی رخصتی کا منظر تھا۔ ایک ایسا لمحہ جس میں کروڑوں دل ایک ساتھ دھڑک رہے تھے، ایک ساتھ رو رہے تھے اور ایک ساتھ اپنے قائد کو الوداع کہہ رہے تھے۔ تاریخ نے شاید ہی کبھی ایسا دردناک اور پُرہجوم منظر دیکھا ہو، جہاں عقیدت، محبت، اشک اور جدائی سب ایک ہی منظر میں سمٹ آئے ہوں۔ یوں امام خمینی مٹی کی آغوش میں اتر گئے، مگر ان کی یاد، ان کا پیغام اور ان کا اثر لاکھوں دلوں میں ہمیشہ کے لیے نقش ہوگیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار