لندن: اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کے خلاف سڑکوں پر احتجاجی مہم
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن میں فلسطینی حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کے Wanted پوسٹرز شہر کی بسوں، سڑکوں اور اہم مقامات پر آویزاں کیے ہیں تاکہ غزہ میں جاری تنازع کے دوران ان کے مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف اقدامات پر توجہ دلائی جا سکے۔
کارکنوں کی اس مہم میں نتن یاہو کی تصاویر کے ساتھ ایک متن بھی شامل ہے، جس میں نومبر 2024 میں ان کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کی گرفتاری کے وارنٹ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ وارنٹ میں ان پر اکتوبر 2023 سے غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
غزہ میں اسرائیلی فوج کے دو سالہ آپریشن کے دوران 71 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ اگرچہ 10 اکتوبر 2025 سے جنگ بندی نافذ ہے، لیکن اسرائیل نے اپنے حملے مکمل طور پر بند نہیں کیے۔
غزہ میں زندگی کی حالت بھی ابھی بہت بہتر نہیں ہوئی، بنیادی ضروریات جیسے خوراک، طبی امداد، موبائل ہاؤسنگ اور دیگر امدادی سامان فراہم نہیں کیا گیا۔ عالمی انسانی تنظیمیں بار بار خبردار کر چکی ہیں کہ اس صورتحال سے مقامی فلسطینیوں کی زندگی مزید خطرے میں ہے۔
لندن میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں کارکنان نے نتن یاہو کو بین الاقوامی عدالت کے سامنے جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کیا اور دنیا سے فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی اپیل کی۔
کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ احتجاجی مہم عالمی برادری کو یاد دلاتی ہے کہ غزہ میں انسانی بحران کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور انصاف کے لیے آواز بلند کرنا ہر ذمہ دار شہری کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔