پیوتن کی رہائش گاہ پر یوکرین کا ڈرون حملہ ناکام بنا دیا، روسی وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
روسی میڈیا کے مطابق پیر کو ایک بیان میں سرگئی لاوروف نے کہا کہ 28 اور 29 نومبر کی درمیانی شپ یوکرین نے 91 ڈرونز کے ذریعے نوگوروڈ ریجن میں صدارتی رہائش گاہ پر ایک دہشتگردانہ حملہ کیا تاہم تمام ڈرونز کو روک دیا گیا اور کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔ اسلام ٹائمز۔ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ صدر پیوتن کی رہائش گاہ پر یوکرین کا ڈرون حملہ ناکام بنا دیا گیا ہے۔ اس حملے کے بعد ماسکو یوکرین مذاکرات میں اپنے موقف پر نظرثانی کریگا تاہم مذاکراتی عمل سے دستبردار نہیں ہو گا۔ روسی میڈیا کے مطابق پیر کو ایک بیان میں سرگئی لاوروف نے کہا کہ 28 اور 29 نومبر کی درمیانی شپ یوکرین نے 91 ڈرونز کے ذریعے نوگوروڈ ریجن میں صدارتی رہائش گاہ پر ایک دہشتگردانہ حملہ کیا تاہم تمام ڈرونز کو روک دیا گیا اور کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ صدر کی رہائش گاہ پر یہ ناکام حملہ اس وقت ہوا جب روسی اور امریکی نمائندے "بھرپور مذاکرات" میں مصروف تھے۔ اگرچہ ماسکو یوکرین تنازعہ کو حل کرنے کے مقصد سے امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات سے دستبردار نہیں ہو گا، لیکن یوکرین کے "لاپرواہ اقدامات" کی روشنی میں روس کے مذاکراتی موقف پر نظر ثانی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کیف کی اس کارروائی کے بعد جوابی حملوں کے اہداف اور روسی فوج کی طرف سے ان کے نفاذ کا وقت مقرر کر لیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رہائش گاہ پر نے کہا
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔