اسرائیل خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں بڑھا رہا ہے، ترک صدر
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
انقرہ: ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ اسرائیل کے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے اقدامات تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جس کی تازہ مثال تل ابیب کا الگ شدہ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا ہے۔
کویت کے ولی عہد شیخ صباح خالد الصباح سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئےترک صدر نے زور دیا کہ صومالیہ کی علاقائی سالمیت کو ہر صورت میں حمایت فراہم کی جانی چاہیے۔
اردوان نے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ ترکی اور کویت کے درمیان ہر شعبے میں تعاون جاری رہے گا اور مستقبل میں مزید فروغ پائے گا۔
ترک صدر نے غزہ کی تعمیر نو کے حوالے سے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مستقل جنگ بندی اور امن قائم ہونے کے بعد غزہ کی بحالی کا عمل شروع ہو سکے گا، اور اس میں ترکی اور کویت کے درمیان تعاون انتہائی اہم ہوگا، نہوں نے خطے کی مجموعی صورتحال، دوطرفہ تعلقات اور عالمی امور پر بھی بات چیت کی۔
ترک وزارت مواصلات کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے مختلف عالمی اور علاقائی چیلنجز پر بھی تبادلہ خیال کیا اور علاقائی استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔