اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا مصر کی قومی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ قرار
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
مصر کے سابق سفارت کاروں کا خیال ہے کہ اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اقدام نہ صرف مصر کی قومی سلامتی کے لیے ایک انتہائی خطرناک عمل ہے بلکہ اس سے ہارن آف افریقہ کے خطے کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حال ہی میں اسرائیلی کی غاصب صیہونی رژیم نے صومالیہ کے شمال مغرب میں واقع علاقے صومالی لینڈ کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان نے پوری اسلامی دنیا اور خاص طور پر عرب ممالک میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ مصر کے کئی نامور سابق عہدیداروں اور سفارت کاروں نے اسرائیل کے اس اقدام کو مصر کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دینے کے ساتھ ساتھ خبردار کیا ہے کہ اس اقدام کے نتیجے میں ہارن آف افریقہ خطے میں شدید سیاسی عدم استحکام پیدا ہونے کا خطرہ پایا جاتا ہے۔ ان سفارت کاروں کا خیال ہے کہ جنوبی بحیرہ احمر میں اسرائیل کے فوجی عزائم کی روشنی میں یہ اقدام، جسے قاہرہ نے پہلے سے اپنی سرخ لکیر قرار دے رکھا تھا، مصر اور بحیرہ احمر کے تمام ممالک کی قومی سلامتی کے لیے عمومی طور پر سنگین خطرہ ہے۔ اس بارے میں مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے ترکی، صومالیہ اور جبوتی میں اپنے ہم منصب عہدیداروں سے فون پر بات کرتے ہوئے اس اسرائیلی اقدام کو انتہائی خطرناک قرار دیا۔ انہوں نے اس اقدام کو مسترد کر دیا اور اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کسی ملک کی سرزمین کے ایک حصے کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنا ایک خطرناک بدعت ہے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
مصر کی سابق نائب وزیر خارجہ برائے افریقی امور مونا عمر نے اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کیے جانے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ انتہائی اہم تزویراتی محل وقوع کا حامل ہے لہذا اسرائیل صومالیہ میں مرکزی حکومت کی کمزوری اور ہارن آف افریقہ میں کمزور سیکورٹی صورتحال کا غلط فائدہ اٹھا کر اپنے مفادات کی خاطر اس علاقے میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے درپے ہے۔ انہوں نے مزید کہا: "اسرائیل خلیج عدن کے ساحل پر واقع اس اسٹریٹجک اہمیت کے حامل علاقے میں اپنے قدم جمانے اور بحیرہ احمر کے دروازے پر اپنا تسلط قائم کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ یہ راستہ مصر میں نہر سویز پر ختم ہوتا ہے۔ اس علاقے میں صیہونی رژیم کی موجودگی مصر میں نہر سویز کی طرف سمندری تقل و حرکت کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ اسے یمن میں انصارااللہ تحریک کے بھی قریب لے آئی گی۔" مصر کے سابق نائب وزیر خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے کے وافر وسائل کے پیش نظر صومالی لینڈ میں بھی اسرائیل کے بڑے سیکورٹی اور اقتصادی عزائم ہیں۔ اول، یہ اسرائیلی اقدام مصر کی قومی سلامتی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے اور اس بات کا امکان بہت زیادہ ہے کہ صومالی لینڈ اسرائیل کو اس علیحدگی پسند علاقے میں فوجی اڈہ قائم کرنے کی اجازت دے دے گا۔
مصر کی خارجہ امور کونسل کی رکن اور سابقہ سفیر صلاح حلیمہ نے بھی کہا کہ اسرائیل یقینی طور پر اس اقدام کے ذریعے صومالی لینڈ میں فوجی موجودگی قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس خطے کا اسٹریٹجک محل وقوع، اسرائیل، ایتھوپیا، متحدہ عرب امارات اور امریکہ سمیت کئی ممالک کے لیے بہت پرکشش ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صیہونی رژیم کے اس اقدام سے مصر کی قومی سلامتی بالخصوص عربوں کی سلامتی کے ساتھ ساتھ بحیرہ احمر کی علاقائی سلامتی کو شدید خطرہ لاحق ہے اور یہی وجہ ہے کہ چار ممالک، مصر، ترکی، صومالیہ اور جیبوتی نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے پر مبنی اس اسرائیلی اقدام کی فوری مذمت کی ہے۔ اس مصری سفارت کار نے مزید کہا: "صومالی لینڈ کے ذریعے جنوبی بحیرہ احمر میں اسرائیل کی موجودگی مصر کی قومی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ ایک دشمن کے طور پر اسرائیل کی بحیرہ احمر کے شمال اور جنوب میں موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی افواج اور فوجی اڈوں کے ساتھ سمندر کو کنٹرول کر رہا ہے، جو مصر کی قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔" انہوں نے کہا: "اس اسرائیلی اقدام سے مصر کی معیشت پر بھی اہم اثرات ظاہر ہوں گے کیونکہ بحیرہ احمر میں سمندری نقل و حرکت اور علاقائی استحکام کے درمیان گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔ تل ابیب کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا، اسرائیل، ایتھوپیا، امریکہ اور متحدہ عرب امارات پر مشتمل ایک چار فریقی جاہ طلب گروہ کے عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔"
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مصر کی قومی سلامتی کے لیے ایک ریاست کے طور پر تسلیم اسرائیلی اقدام صومالی لینڈ کو اسرائیل کی علاقے میں بڑا خطرہ انہوں نے خطرہ ہے کے ساتھ مصر کے ہے اور
پڑھیں:
وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور اٹلی کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات باہمی احترام، اعتماد اور تعاون پر مبنی ہیں۔منگل کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اٹلی پاکستان کا ایک اہم یورپی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوئے ہیں۔ وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافتی روابط کے فروغ کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اطالوی قومی دن دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے مزید فروغ کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اٹلی میں مقیم پاکستانی برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ برادری دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔(جاری ہے)
وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اقتصادی، تجارتی اور عوامی سطح کے روابط کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے ،دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں جو مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اٹلی کے مضبوط تعلقات باہمی مفادات کے تحفظ اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور یہ دیرینہ دوستی مستقبل میں مزید مضبوط اور نتیجہ خیز شراکت داری میں تبدیل ہوگی۔ انہوں نے اطالوی قومی دن پر پاکستان اور اٹلی کے عوام کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کی نیک تمناں کا اظہار کیا۔