افغانستان ہمسایہ ممالک کے لیے کوئی خطرہ نہیں، طالبان
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
خبر رساں ایجنسی تسنیم کے علاقائی دفتر کے مطابق سراج الدین حقانی نے کابل میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے علما کی حالیہ کوششوں اور اس ملک کے وزیرِ خارجہ کے بیانات کا خیرمقدم کیا جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کے لیے دیے گئے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ طالبان حکومت کے وزیرِ داخلہ نے خطے کے امن و استحکام کے لیے اپنے ملک کے عزم پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کسی بھی ہمسایہ ملک کے لیے خطرہ نہیں ہے اور افغان عوام کی کسی کے خلاف کوئی دشمنانہ نیت نہیں۔ خبر رساں ایجنسی تسنیم کے علاقائی دفتر کے مطابق سراج الدین حقانی نے کابل میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے علما کی حالیہ کوششوں اور اس ملک کے وزیرِ خارجہ کے بیانات کا خیرمقدم کیا جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کے لیے دیے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ہر وہ اقدام اور بیان جو افغانستان اور پاکستان کے درمیان مسائل کے حل اور باہمی تعاون کے فروغ کا باعث بنے، قابلِ تعریف ہے۔ حقانی نے مزید کہا کہ افغان عوام اندرونی سطح پر پائیدار امن و سلامتی کے ساتھ دنیا کو امن اور بھائی چارے کا پیغام دے رہے ہیں، جس سے دیگر ممالک کی تشویشات بھی دور ہوں گی۔ طالبان حکومت کے وزیرِ داخلہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ افغانستان کی تعمیرِ نو کے عمل میں اپنا کردار ادا کرے، جبکہ افغان شہریوں سے بھی کہا کہ وہ موجودہ حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان کے علما نے حالیہ اجلاس میں افغانستان کی سرحدی خلاف ورزیوں پر تنقید کرتے ہوئے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا تھا۔ پاکستان کے وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے بھی اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک خیر سگالی کی نیت رکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔
اس سے قبل، تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کے اتحاد کے سیکریٹری جنرل اسد قیصر نے سراج الدین حقانی کے چند روز قبل دیے گئے بیان پر ردِعمل ظاہر کیا تھا، اسے ایک مثبت اور امید افزا پیش رفت قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ بیانات دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو مضبوط کریں گے اور خطے میں امن کے امکانات کو بڑھائیں گے، اور پاکستان کی حکومت کو چاہیے کہ وہ اس موقع کو سنجیدگی سے لے اور دو طرفہ و پائیدار مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان کے کے درمیان ممالک کے کے وزیر ملک کے کے لیے
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ