Jasarat News:
2026-07-24@04:39:21 GMT

چین پاکستان دفاعی اشتراک اور بھارتی بے چینی

اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251230-03-6

 

محمد مطاہر خان

عالمی طاقتوں کے مابین تزویراتی برتری کی کشمکش ایک نئے موڑ میں داخل ہو چکی ہے جہاں جوہری بازوؤں کی دوڑ، دفاعی شراکت داریوں کی نئی صورتیں اور علاقائی خدشات بیک وقت مستقبل کی سلامتی کے خدوخال مرتب کر رہے ہیں۔ امریکی محکمہ ٔ دفاع کی حالیہ رپورٹ جسے کانگریس میں ’’چین میں ملٹری اینڈ سیکورٹی ڈیویلپمنٹس‘‘ کے عنوان سے جمع کروایا گیا اسی بدلتی ہوئی عالمی شطرنج کو بیان کرتی ہے، مگر اس انداز میں کہ اس کے ہر نکتے کے پیچھے طاقت کے غیر مرئی توازن، سفارتی امکانات اور عسکری نفسیات کی پوری داستان سمٹی محسوس ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین نہ صرف اپنی جوہری صلاحیت میں غیر معمولی پیش رفت دکھا رہا ہے بلکہ اس نے تین نئی تعمیر شدہ تنصیبات میں ایک سو سے زائد بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تعینات کرکے اپنی ارلی وارننگ اور کاؤنٹر اسٹرائیک کی قوت کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ یہ پیش رفت محض عسکری اثاثوں میں اضافہ نہیں بلکہ بیجنگ کی اس حکمتِ عملی کی علامت ہے جس کے تحت وہ مستقبل کی کسی بھی ممکنہ اسٹرائیک کے جواب میں ’’توازنِ خوف‘‘ کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

چینی وزارتِ خارجہ نے اس رپورٹ کو روایتی امریکی بیانیے کا تسلسل قرار دیتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ بیجنگ کا مؤقف یہ ہے کہ واشنگٹن ایسی رپورٹوں کے ذریعے اپنی جوہری صلاحیت کی جدید کاری کے لیے اخلاقی جواز تراش رہا ہے اور یوں عالمی اسٹرٹیجک استحکام کو خود خطرے میں ڈال رہا ہے۔ چین نے یاد دلایا کہ دنیا کے سب سے بڑے جوہری ذخیرے کا مالک امریکا ہی ہے، لہٰذا تخفیف ِ اسلحہ کی ذمے داری سب سے پہلے اس پر عائد ہوتی ہے۔ اس موقف نے ایک بار پھر اس سوال کو تازہ کر دیا ہے کہ آیا طاقتور ریاستیں واقعی عدمِ پھیلاؤ کے اصولوں پر خلوصِ نیت سے کاربند ہیں یا پھر عالمی امن کا بیانیہ بھی طاقت کے مقابلے میں محض ایک سفارتی آلہ بن چکا ہے۔ اسی رپورٹ کا ایک اہم اور ہمارے خطے سے براہ راست متعلق پہلو چین اور پاکستان کی گہری ہوتی ہوئی دفاعی شراکت داری ہے۔ پنٹاگون کے مطابق 2020 سے اب تک چین پاکستان کو 36 جے-10 سی طیارے فراہم کر چکا ہے، جب کہ اسی ماڈل میں مصر، ازبکستان، انڈونیشیا، ایران اور بنگلا دیش کی دلچسپی کا ذکر بھی سامنے آتا ہے۔ یہ رجحان محض ایک ہتھیار یا ائرکرافٹ کی فروخت نہیں بلکہ ایک وسیع تر دفاعی ماحولیاتی نظام کی تشکیل کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کے ذریعے چین خود کو عالمی اسلحہ منڈی میں ایک مضبوط متبادل کے طور پر منوا رہا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ طیارے محض تکنیکی اثاثہ نہیں بلکہ فضائی برتری کے توازن میں ایک نفسیاتی اعتماد بھی فراہم کرتے ہیں، جس کا اثر جنوبی ایشیا کی اسٹرٹیجک حرکیات پر براہِ راست پڑتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں بھارتی خدشات پوری شدت کے ساتھ ابھرتے ہیں۔ نئی دہلی مدتوں سے چین پاکستان دفاعی تعاون کو ایک سہ طرفہ دباؤ کے طور پر دیکھتی ہے، جس میں ایک جانب سرحدی تنازعات اور دوسری طرف پاکستان کے ساتھ روایتی کشیدگی کا عنصر بیک وقت موجود ہے۔ جے-10 سی جیسے جدید لڑاکا طیاروں کی فراہمی بھارت کے لیے محض ایک فوجی چیلنج نہیں بلکہ ایک اسٹرٹیجک پیغام بھی ہے کہ خطے میں طاقت کا ترازو اب یک رُخا نہیں رہا۔ یہی احساس بھارت کو اپنے اسلحہ پروگرام کی توسیع، روسی و مغربی دفاعی ٹیکنالوجی تک مزید رسائی اور جوہری ڈیٹرنس کی نئی توجیہات کی طرف دھکیلتا ہے، جس کے نتیجے میں علاقائی ہتھیاروں کی دوڑ ایک بار پھر تیز ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ تاہم محض عسکری نقطہ ٔ نظر سے اس صورتحال کا تجزیہ ادھورا رہتا ہے۔ چین، پاکستان اور دیگر ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی دفاعی شراکتیں دراصل عالمی سفارت کاری کی نئی جہتوں کی نمائندگی کرتی ہیں جہاں اسلحہ ایک معاشی، تکنیکی اور تزویری تعلق کی بنیاد بن جاتا ہے۔ جے-10 سی جیسے پلیٹ فارمز اس بات کی علامت بھی ہیں کہ عالمی اسلحہ مارکیٹ میں مغربی اجارہ داری کو عملی چیلنج درپیش ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چین کی پالیسی یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ نہ صرف اپنی دفاعی مصنوعات کو برآمد کر رہا ہے بلکہ انہیں علاقائی اتحادوں اور تزویراتی اشتراک کے آلہ ِ کار کے طور پر بھی استعمال کر رہا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ تعاون ایک طرف دفاعی خود اعتمادی کو تقویت دیتا ہے تو دوسری طرف اسے ایک نئے بین الاقوامی صف بندی کے مرکز میں لا کھڑا کرتا ہے۔ ایسے ماحول میں اسلام آباد کے لیے سب سے بڑا چیلنج توازن کا ہے ایک طرف امریکا اور مغرب کے ساتھ سفارتی و معاشی روابط، دوسری طرف چین کے ساتھ اسٹرٹیجک شراکت۔ یہی وہ دوہرا دائرہ ہے جس میں پاکستان کو اپنی سلامتی کی ضرورتوں، معاشی ترجیحات اور علاقائی ذمے داریوں کے درمیان محتاط توازن قائم رکھنا ہوگا۔ اس توازن کی ذرا سی لغزش مستقبل کی خارجہ پالیسی پر دیرپا اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ جوہری بازوؤں کی دوڑ کے تناظر میں یہ سوال بھی ناگزیر ہے کہ آیا عالمی برادری اس رفتار کو قابو میں لانے کے قابل رہی ہے یا نہیں۔ چین کے میزائل تنصیبات سے متعلق امریکی دعوے، اور اس کے جواب میں بیجنگ کے الزامات، دراصل اسی بڑے بحران کا مظہر ہیں کہ طاقتور ریاستیں ابھی تک تخفیف ِ اسلحہ کے کسی مشترکہ لائحۂ عمل پر متفق نہیں ہو سکیں۔ ہر ملک اپنی سلامتی کے بیانیے کو اس انداز میں ترتیب دیتا ہے کہ ہتھیاروں کی توسیع ایک ناگزیر ضرورت محسوس ہونے لگتی ہے، یوں عدمِ پھیلاؤ کا عالمی ڈھانچہ عملی طور پر کمزور پڑتا جاتا ہے۔

جنوبی ایشیا، جہاں پہلے ہی تاریخی تنازعات، سرحدی تنائو اور باہمی بد اعتمادی کی وراثت موجود ہے، اس نئی عالمی اسلحہ حرکیات سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتا ہے۔ چین پاکستان دفاعی شراکت اور اس کے نتیجے میں بھارتی تشویش، تینوں فریقوں کو ایک ایسے سیکورٹی پیرائے میں دھکیل سکتی ہے جہاں مکالمہ، اعتماد سازی اور علاقائی تعاون پس منظر میں چلے جائیں، اور ہر ریاست اپنی عسکری صلاحیت کو ہی تحفظ کا بنیادی ذریعہ سمجھنے لگے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دانش مندانہ سفارت کاری، ذمے دار میڈیا ڈسکورس اور علاقائی تعاون کے عملی فورمز ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ اس تمام منظرنامے کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ طاقت کے اس کھیل میں انسانی سلامتی، معاشی فلاح اور خطے کے عوام کی حقیقی ترجیحات اکثر ثانوی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں۔ جوہری ہتھیار خواہ کسی بھی طاقت کے پاس ہوں، ان کا وجود ہمیشہ خطرے کی علامت رہتا ہے اور یہی حقیقت عالمی قیادتوں کو اس احساس کی طرف بلاتی ہے کہ اسلحہ کی دوڑ محض فخر یا برتری کا مقابلہ نہیں، بلکہ ایک ایسا بوجھ ہے جو انسانیت کے اجتماعی مستقبل پر سایہ ڈال دیتا ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ چین، امریکا، بھارت اور پاکستان سمیت تمام علاقائی و عالمی طاقتیں اس نئی تزویراتی فضا کو ٹکراؤ کے بجائے ذمے دارانہ مکالمے کی طرف موڑیں۔ دفاعی شراکت داریوں کو شفافیت، ضابطوں اور اعتماد سازی کے ساتھ مربوط کیا جائے، اور جوہری صلاحیتوں کو طاقت کے مظاہرے کے بجائے اس ذمے داری کے ساتھ دیکھا جائے جو انسانی بقا سے جڑی ہوئی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے طاقت کے اس کڑے اور نازک توازن کو امن، اعتدال اور مشترکہ ذمے داری کے کسی زیادہ پائیدار قالب میں ڈھالا جا سکتا ہے۔

محمد مطاہر خان سنگھانوی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اور علاقائی دفاعی شراکت چین پاکستان نہیں بلکہ کے ساتھ ہے جہاں طاقت کے میں ایک کی دوڑ کی طرف کے لیے رہا ہے

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان