Jasarat News:
2026-07-24@02:43:58 GMT

مذاکرات یا ہوا میں اچھلی گیند

اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251230-03-7

 

باباالف

وزیراعظم شہباز شریف نے چوتھی یا ساتویں بار یونہی گیند ہوا میں اچھالی تھی کہ پی ٹی آئی کا انتشار سامنے آگیا۔ امریکی صدر ٹرومین نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ جب میں لڑکا تھا تو میری نظر اتنی کمزور تھی کہ بیس بال کھیلتے وقت بال نظر نہ آتی تھی۔ ایک صحافی بولا ’’گویا بچپن ہی سے آپ میں امریکی صدر بننے کی صلاحیتیں موجود تھیں‘‘ کچھ ایسا ہی معاملہ پی ٹی آئی کے رہنمائوں کا ہے ’’جب وہ لڑکے تھے تو ان کی سیاسی بصیرت اور بصارت اتنی کمزور تھی کہ وہ بچپن ہی سے تحریک انصاف کا لیڈر بننے کی صلاحیت رکھتے تھے‘‘۔ شہباز شریف نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کی گیند اچھالی ہی تھی کہ سب دوڑ پڑے۔ مختلف سمتوں میں۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان (کوئی ہے جو بتائے آئین پاکستان کہاں وجود رکھتا ہے اور یہ پارٹی کہاں پائی جاتی ہے) جس کے رہنما محمود خان اچکزئی کو عمران خان نے مذاکرات کا مکمل اختیا ردے رکھا ہے، انہوں نے مذاکرات میں بیٹھنے کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ نئے میثاق کی ضرورت ہے، اگر حکومت ہاتھ آگے بڑھائے تو وہ اڈیالہ جا کر عمران خان کی منظوری لے سکتے ہیں۔ تحریک انصاف کے ’’بانی‘‘ کی ہمشیرہ علیمہ خان نے اس کو اتنی جلد بازی میں ویٹو کیا جیسے بارش نہ ہو جائے اور سوکھے دھانوں کھیت نہ اُگ آئیں۔ شیخ وقاص اکرم نے آگے بڑھ کر ہمشیرہ کے ویٹوکو ویلکم کردیا۔ بیر سٹر گوہر اور سلمان اکرم راجا لپک کر محمود اچکزئی کے گھوڑے پر بیٹھ گئے اور مذاکرات کی تائید کردی۔ فواد چودھری اور ان کے ساتھی نہ جانے ’’کس اشارے‘‘ پر کوٹ لکھپت جیل کے مقید رہنمائوں کے ساتھ مل کر پتا نہیں کس سمت جانا چاہتے ہیں؟

کہا جاتا ہے کہ سیاست دان اور شیطان کم ہی غصے میں آتے ہیں۔ مذاکرات کے تائید کنند گان میں محمود اچکزئی کا معاملہ یہ ہے کہ جس قدر بھی اور جب بھی قدرت انہیں کوئی موقع دیتی ہے وہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ماحول کو دھواں دھار کرنا اپنی سیاست کا لازمہ سمجھتے ہیں۔ اسی طرح محمود اچکزئی کے باب میں اسٹیبلشمنٹ کا رویہ ائر ہوسٹس اور چڑیل والا ہے۔ کرنل محمد خاں نے بسلامت روی میں تحریر کیا ہے کہ (ہوائی جہاز کے سفر میں) کسی نے ائر ہوسٹس کو چڑیل کہہ دیا۔ اس پر ایک نوجوان نے کہا کہ یہ ائر ہوسٹس کو چڑیل کس نے کہا؟ اس پر پیچھے سے آوازآئی کہ یہ چڑیل کو ائر ہوسٹس کس نے کہا؟ جنس کے فرق کے باجود اسٹیبلشمنٹ محمود خان اچکزئی کو چڑیل ہی سمجھتی ہے جن کی فائل کا وزن وہ چپ ہوں جب بھی بڑھتا ہی رہتا ہے۔ میثاق جمہوریت کی طرز پر ان کے پیش کردہ میثاق کا جہاں تک تعلق ہے یقینا وہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہی ہو گا۔ شہباز شریف اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بولنا اور کچھ کرنا تو درکنار ایسا سوچ بھی نہیں سکتے۔ لہٰذا میثاق والا معاملہ بھی دراصل مچھلی فروشوں کی طوائف الملوکی سے زیادہ کچھ نہیں۔

حکومت کا معاملہ یہ ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات ہوں یا کچھ اور جو بھی کرنا چاہتی ہے مائنس عمران خان کی صورت میں کرنا چاہتی ہے۔ تحریک انصاف کے رہنمائوں کی صورت یہ ہے کہ وہ ایک ایسے بچے کی طرح ہیں جن کی فیڈر عمران خان ہی بناتے ہیں تو یہ لیڈران کرام عمران خان کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے۔ رہے عوام تو عمران خان ان کے لیے آج بھی ’’مائی۔ نس‘‘ ہیں۔ فواد چودھری کوٹ لکھپت جیل میں بند شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ اور میاں محمود الرشید اور دیگر کے ساتھ نیشنل ڈائیلاگ اور مذاکرات کی فضا بنانا چاہتے ہیں جس کے لیے صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کرنا اور کشیدگی کم کرنا چاہتے ہیں۔ فواد چودھری کی یہ ساری کوششیں اتنی ہی توجہ کی لائق اور سننے کے قابل ہیں جتنے بجٹ تقریر کے اعدادو شمار۔ عمران خان کی ایک ٹویٹ ہی ان کوششوں کو اُڑا کر رکھ سکتی ہے۔

حکومت کا دوسرا مطالبہ یہ ممکن ہے کہ فارم 47 کا شور بند کریں اور ہماری قانونی حیثیت کو تسلیم کریں۔ اس مطالبہ کی خوبی یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو پسند آنا تو درکنار سنائی ہی نہیں دے گا۔ جس طرح عمران خان کو اپنے دور حکومت میں آر ٹی ایس مشینوں کے بیٹھ جانے کا معاملہ سمجھ میں نہیں آتا تھا اسی طرح آج کل شہباز حکومت کے نزدیک فارم 47 نالج تو کیا جنرل نالج کا سوال بھی نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ سبی کے مقا م پر منی بیگم غزل سرا تھیں۔ جب وہ اس شعر پر پہنچی۔ گلستاں کو لہو کی ضرورت پڑی؍ سب سے پہلے ہی گردن ہماری کٹی۔ تو ایک بندوق بردار اسٹیج پر چڑھ آیا ’’منی بیگم کون آپ کی گردن کاٹنا چاہتا ہے ہمیں بتائو ہم اس کی گردن کاٹ دے گا‘‘۔ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات جس مقام پر پہنچ چکے ہیں دونوں ہی ایک دوسرے کی گردن مارنا چاہتے ہیں۔ دونوں ہی ٹیمپو اور لہجہ بدل بدل کر بات کررہے ہیں لیکن چاہتے اصل میں یہی ہیں۔

مذاکرات ایک ہی صورت میں کامیاب ہوسکتے ہیں جب اس کا ایجنڈا عمران خان کی رہائی ہو۔ جب کہ اسٹیبلشمنٹ 9 مئی 2023 کے پی ٹی آئی کے کارکنوں کے پرتشدد احتجاج اور فوجی تنصیبات پر حملوں کے مقدمے کو فوجی عدالت میں چلانا چاہتی ہے یہ بیانیہ عمران خان کو کسی بھی قسم کی رعایت دینے کی صورت میں ٹھس ہوسکتا ہے۔ دوسری طرف بات یہ ہے کہ فیلڈ مارشل صاحب کو ملک اور بیرون ملک جس طرح پذیرائی مل رہی ہے، جس طرح پاکستان کے ٹیک آف کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں اس میں کہیں عمران خان کی رہائی کی ناگزیریت نظر نہیں آتی۔ عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کے باب میں جو لب ولہجہ اختیار کررکھا ہے وہ ان کی رہائی میں رکاوٹ بھی ہے اور دوسری طرف عوام میں ان کی شہرت کا بنیادی اور بڑا سبب بھی۔ اپنے ماضی کی طرح آج وہ اسٹیبلشمنٹ کو باپ سمجھنے کے رویے کی تکرار شروع کردیں عوام میں ان کی شہرت آدھی بلکہ اس سے بھی کم رہ جائے گی۔

25 دسمبر اس برس بھارت میں کرسمس کے تہوار کے موقع پر جہاں عیسائی اقلیت کی تقریبات پر ہندواکثریت کے حملے اور کشیدہ صورتحال نظر آئی وہیں پاکستان میں صورتحال بہترین تھی۔ عیسائی برادری نے مکمل آزادی کے ساتھ امن وامان کے ماحول میں کرسمس کی تقریبات منعقد کیں۔ عیسائی برادری کی تقر یبات میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیراعظم شہباز شریف، صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات وثقافت عظمیٰ بخاری اور دیگر حکومتی عمائدین نے شرکت کی۔ جہاں تک اقلیتوں کو تحفظ دینے کا معاملہ ہے اس میں حکومت مبارکباد کی مستحق ہے۔ مغرب کو خوش کرنے کے حوالے سے جہاں تک فیلڈ مارشل اور عمائدین حکومت کی ان تقریبات میں شرکت کا معاملہ ہے یہ غیر ضروری اور ناپسندیدہ ہے۔ اسلام سے بڑھ کر کسی مذہب نے اقلیتوں کے حقوق کا خیال نہیں رکھا جو اقلیتوں کے تحفظ کو صرف ان کی مذہبی رسوم کے تحفظ تک محدود نہیں رکھتا بلکہ مسلم حکمرانوں کی ذمے داری قرار دیتا ہے لیکن غیر مسلموں کے مذہبی تہوار پر ان کی مجالس میں شرکت کرنا یا خود اس کی تقریب منعقد کرنا یا انہیں مبارکباد دینا وغیر ہ شرعاً ممنوع اور ناجائز ہے؛ اس لیے کہ غیر مسلموں کے مذہبی تہوار ان کے مذہبی اعتقادات اور عبادات پر مبنی ہوتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ شریک ہونا ان کے مذہبی تہوار اور ان کے مذہب کی تعظیم اور ان کے مذہب سے تعلق کا اظہار ہے کسی مسلمان کے لیے کرسمس کی تقریب میں شریک ہونا، کیک کاٹنا وغیرہ شرعاً جائز نہیں۔ رسول اللہؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: ابن آدم نے مجھے گالی دی اور اس کے لیے مناسب نہ تھا کہ وہ مجھے گالی دیتا، اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ کہتا ہے کہ اللہ نے اپنا بیٹا بنایا ہے حالانکہ میں ایک ہوں بے نیاز ہوں نہ میری کوئی اولاد ہے اور نہ میں کسی کی اولاد ہوں اور نہ کوئی میرے برابر کا ہے۔ (بخاری) اللہ پاک فرماتے ہیں: اے ایمان والو کافروں کو دوست نہ بناؤ۔ (سورہ نساء 144)

 

بابا الف.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسٹیبلشمنٹ کے عمران خان کی شہباز شریف پی ٹی ا ئی چاہتے ہیں کا معاملہ ائر ہوسٹس کے مذہبی یہ ہے کہ کے ساتھ تھی کہ ہے اور کے لیے

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف