اسلام آباد میں فائرنگ، ایک شخص جاں بحق، پولیس کانسٹیبل زخمی
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
شکرپڑیاں کے قریب فائرنگ کے واقعہ میں 30 سالہ شخص جاں بحق جبکہ ایک پولیس کانسٹیبل زخمی ہو گیا جس کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ شکرپڑیاں میں اوپن ایئر تھیٹر کے قریب پیش آیا جب ایک نامعلوم مسلح شخص نے قریب سے فائرنگ کی اور موقع سے فرار ہو گیا۔
مقتول کی شناخت ثناء اللہ ولد امیر نواب عمر کے نام سے ہوئی جو ضلع کرک کا رہائشی تھا اور اسلام آباد میں رہائش پذیر تھا، اسے گولیوں کے سخت زخم آئے اور اسے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔
لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کر دیا گیا۔اہلکار نے کہا کہ فائرنگ کے دوران کانسٹیبل حسین شاہ جو انٹری پوائنٹ پر چیکنگ ڈیوٹی پر مامور تھا،دائیں ٹانگ پر گولی لگنے سے زخمی ہو گیا۔ اسے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر اور مستحکم بتائی گئی۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور نے شال اوڑھ کر مقتول کا پیچھا کیا اور انٹری پوائنٹ سے 10 سے 15 میٹر پہلے فائرنگ کی۔ ابتدائی تفتیش سے ذاتی دشمنی کو ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے تاہم تمام پہلوؤں کی جانچ کی جا رہی ہے۔
واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا، فرانزک ثبوت جمع کیے اور ملزم کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
پولیس افسران نے کہا کہ حملہ آور کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں اور واقعے کے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل کے لیے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔