مغربی ہواؤں کے سلسلے میں آج مزید شدت آئے گی
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251230-01-7
اسلام آباد (صباح نیوز)اگلے 2سے3روز کے دوران ممکنہ بارشوں اور متوقع موسمی صورتحال کے حوالے سے این ڈی ایم اے نے ایڈوائزر ی جاری کر دی، پاکستان میں داخل ہونے والے مغربی ہواؤں کے سلسلے میں آج مزید شدت آئے گی، مغربی ہواؤں کی آمدسے ملک کے بیشتر علاقوں میں بارش اور پہاڑی علاقوں میں برفباری متوقع ہے، مغربی ہواؤں کے زیر اثر 31 دسمبر کو بالائی و وسطی علاقوں میں بارش متوقع، اثرات 2 جنوری کی صبح تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔ ناران، کاغان، سوات، دیر، کوہستان، مری، گلیات، اسکردو، ہنزہ سمیت متعدد علاقوں میں برفباری متوقع ہے،رابطہ سڑکوں کی بندش کا خدشہ ہے، بالائی خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کا امکان ہے۔ این ڈی ایم اے نے پی ڈی ایم ایز، جی بی ڈی ایم اے، ایس ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی۔ متعلقہ اداروں کو ہنگامی ریسپانس ٹیمیں تیار رکھنے اور پیشگی حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ دوسری جانب حد نگاہ میں بہتری کے بعد پنجاب کی تمام موٹر ویز کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے، رات کو شدید دھند کے باعث موٹر وے ایم 2 ایم 3 ایم 4 ایم 5 اور لاہور سیالکوٹ موٹر وے ایم 11 کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مغربی ہواؤں علاقوں میں ڈی ایم اے
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔