data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر)ملیر شاہ لطیف پولیس نے ایک بڑی اور سنسنی خیز کارروائی کرتے ہوئے ایک کروڑ روپے کی ڈکیتی میں ملوث پولٹری فارم کے منیجر کو گرفتار کر لیا، جس کی نشاندہی پر مزید تین ملزمان کو بھی حراست میں لے لیا گیا، جبکہ تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ واردات اندرونی منصوبہ بندی کے تحت انجام دی گئی تھی اور ملزم نے اعتماد کے رشتے کو جرم میں بدل دیا۔ایس ایس پی ملیر عبدالخالق پیرزادہ کے مطابق گرفتار مرکزی ملزم عبدالمنان پولٹری فارم پر بطور منیجر تعینات تھا، جس نے منیجر بننے کے بعد ایک منظم گینگ تشکیل دیا اور اپنے ہی مالک سے ایک کروڑ روپے کی ڈکیتی کی منصوبہ بندی کی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے فارم کے مالی نظام، نقدی کی نقل و حرکت اور سیکیورٹی روٹین سے مکمل آگاہی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے واردات کو عملی شکل دی۔ گرفتار ملزمان میں ساجد، حسن اور عبدالطیف شامل ہیں، جن میں سے ایک ملزم سابق پولیس اہلکار کا بیٹا بھی ہے، جس سے اس نیٹ ورک کے ممکنہ اثر و رسوخ اور سہولت کاری کے پہلوؤں پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے 54 لاکھ روپے نقدی، دو پستول اور پانچ موبائل فون برآمد کر لیے ہیں، جبکہ مزید 30 لاکھ روپے ملیر جیل اسٹاف کی کالونی میں واقع ایک گھر سے برآمد کیے گئے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ لوٹی گئی رقم کو مختلف مقامات پر چھپایا گیا تھا۔ گرفتار منیجر نے ڈکیتی کے لیے اپنے جان پہچان اور سابقہ تعلقات کا استعمال کیا اور گینگ کے دیگر ارکان کو واردات میں شامل کیا، جبکہ برآمد ہونے والے موبائل فونز سے اہم ڈیجیٹل شواہد ملنے کی توقع ہے، جن کی مدد سے سہولت کاروں، ممکنہ سرپرستوں اور جرم کے مکمل نیٹ ورک تک پہنچا جا سکے گا۔ایس ایس پی ملیر کا کہنا ہے کہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا اس گینگ نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کی وارداتیں کیں یا کسی ادارہ جاتی کمزوری سے فائدہ اٹھایا۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف

فائل فوٹو 

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔

سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف