ملیر میں ایک کروڑ کی ڈکیتی، واردات کا ماسٹر مائنڈ مالک کا منیجر نکلا
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)ملیر شاہ لطیف پولیس نے ایک بڑی اور سنسنی خیز کارروائی کرتے ہوئے ایک کروڑ روپے کی ڈکیتی میں ملوث پولٹری فارم کے منیجر کو گرفتار کر لیا، جس کی نشاندہی پر مزید تین ملزمان کو بھی حراست میں لے لیا گیا، جبکہ تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ واردات اندرونی منصوبہ بندی کے تحت انجام دی گئی تھی اور ملزم نے اعتماد کے رشتے کو جرم میں بدل دیا۔ایس ایس پی ملیر عبدالخالق پیرزادہ کے مطابق گرفتار مرکزی ملزم عبدالمنان پولٹری فارم پر بطور منیجر تعینات تھا، جس نے منیجر بننے کے بعد ایک منظم گینگ تشکیل دیا اور اپنے ہی مالک سے ایک کروڑ روپے کی ڈکیتی کی منصوبہ بندی کی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے فارم کے مالی نظام، نقدی کی نقل و حرکت اور سیکیورٹی روٹین سے مکمل آگاہی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے واردات کو عملی شکل دی۔ گرفتار ملزمان میں ساجد، حسن اور عبدالطیف شامل ہیں، جن میں سے ایک ملزم سابق پولیس اہلکار کا بیٹا بھی ہے، جس سے اس نیٹ ورک کے ممکنہ اثر و رسوخ اور سہولت کاری کے پہلوؤں پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے 54 لاکھ روپے نقدی، دو پستول اور پانچ موبائل فون برآمد کر لیے ہیں، جبکہ مزید 30 لاکھ روپے ملیر جیل اسٹاف کی کالونی میں واقع ایک گھر سے برآمد کیے گئے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ لوٹی گئی رقم کو مختلف مقامات پر چھپایا گیا تھا۔ گرفتار منیجر نے ڈکیتی کے لیے اپنے جان پہچان اور سابقہ تعلقات کا استعمال کیا اور گینگ کے دیگر ارکان کو واردات میں شامل کیا، جبکہ برآمد ہونے والے موبائل فونز سے اہم ڈیجیٹل شواہد ملنے کی توقع ہے، جن کی مدد سے سہولت کاروں، ممکنہ سرپرستوں اور جرم کے مکمل نیٹ ورک تک پہنچا جا سکے گا۔ایس ایس پی ملیر کا کہنا ہے کہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا اس گینگ نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کی وارداتیں کیں یا کسی ادارہ جاتی کمزوری سے فائدہ اٹھایا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔