چینی وزیر خارجہ کی تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کو جنگ بندی پر مبارک باد
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251230-06-8
بیجنگ(انٹرنیشنل ڈیسک)چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے کمبوڈیا کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ پراک سوک ہون اور تھائی لینڈ کے وزیرِ خارجہ سیہاسک پھوانگک ٹکیو سے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور انہیں جنگ بندی معاہدہ طے پانے پر مبارکباد دی۔ وانگ ای نے چین کے صوبہ یوننان کے شہر یوشی میں کمبوڈیا کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ پراک سوک ہون سے ملاقات کی۔اس موقع پر وانگ ای نے کہا کہ تمام فریقوں کی مشترکہ کوششوں سے کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کی مسلح افواج نے جنگ بندی معاہدہ کر لیا ہے، جو امن کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم ہے اور چین اس پر مبارکباد پیش کرتا ہے۔ جنگ بندی کمبوڈیا اورتھائی لینڈ کے عوام کی مشترکہ خواہشات اور خطے کے ممالک کی عمومی توقعات کے عین مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کو امید ہے کہ سب مل کر یوننان سے امن کی آواز بلند کریں گے، امن پر اتفاق رائے پیدا کریں گے اور امن کے مستقبل کا منظرنامہ پیش کریں گے۔ چین کمبوڈیا کو سرحدی علاقے میں بے گھر ہونے والے افراد کی آباد کاری کے لیے انسانی امدادی سامان مہیا کرنے کے لیے تیار ہے ۔امید ہے کہ کمبوڈیا اپنے ہاں مقیم چینی شہریوں اور منصوبوں کے تحفظ کے لیے مسلسل اقدامات جاری رکھے گا۔ اس موقع پر پراک سوک ہون نے کہا کہ کمبوڈیا تنازع کی ثالثی میں چین کے مثبت کردار کو بے حد سراہتا ہے،کمبوڈیا جلد قیام امن کی توقع کرتا ہے اور امید کرتا ہے کہ اس سہ فریقی ملاقات سے دیرپا امن کی بحالی میں تعاون ہوگا۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے تھائی لینڈ کے وزیرخارجہ سیہاسک پھوانگک ٹکیو سے بھی ملاقات کی۔اس موقع پر وانگ ای نے کہا کہ چین تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کی سرحدی کشیدگی پر گہری توجہ رکھتا ہے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تھائی لینڈ وانگ ای نے نے کہا کہ امن کی
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔