چین کی تائیوان کے گردسب سے بڑی فوجی مشقیں
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) چین نے پیر کے روز تائیوان کے گرد اپنی اب تک کی سب سے بڑی فوجی مشقوں کا آغاز کر دیا ہے۔ ان مشقوں کا مقصد کسی ممکنہ تنازع میں تائیون کو بیرونی مدد سے محروم رکھنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا ہے۔ چین کی ایسٹرن تھیٹر کمانڈ کے مطابق جسٹس مشن 2025نامی ان مشقوں کے تحت فوجی دستے، جنگی بحری جہاز، لڑاکا طیارے اور توپ خانے کو تعینات کیا گیا ہے۔ ان مشقوں میں تائیوان کا محاصرہ، زمین اور سمندر میں اہداف پر براہِ راست فائرنگ اور فرضی حملوں کے ساتھ ساتھ اہم بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی مشقیں شامل ہیں۔ چین کی میری ٹائم سیفٹی ایڈمنسٹریشن کے مطابق لائیو فائرنگ کی مشقیں منگل تک 7 علاقوں میں جاری رہیں گی جو مجموعی دائرہ کار اور تائیوان کے قریب ہونے کے لحاظ سے اب تک کی سب سے بڑی مشقیں ہیں۔ تائیوان کی وزارتِ دفاع کے مطابق پیر کے روز جزیرے کے گرد 89 چینی فوجی طیارے، 14 جنگی بحری جہاز اور 14 کوسٹ گارڈ کشتیاں سرگرم رہیں جبکہ مغربی بحرالکاہل میں مزید 4 جنگی جہاز بھی دیکھے گئے۔ وزارتِ دفاع نے کہا کہ تائیوان کی فوج ہائی الرٹ پر ہے اور اگر مشقیں حملے میں تبدیل ہوئیں تو ریپڈ ریسپانس ایکسرسائزز کرنے کے لیے تیار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔