سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید نے فوجی عدالت کی سزا کو چیلنج کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:سابق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید نے فوجی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کے خلاف باضابطہ طور پر اپیل دائر کر دی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فیض حمید کے قانونی نمائندے نے تصدیق کی ہے کہ سزا کے خلاف اپیل مقررہ قانونی مدت کے اندر جمع کرا دی گئی ہے، جس کے بعد کیس ایک نئے قانونی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔
فیض حمید کے وکیل میاں علی اشفاق کا کہنا ہے کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے فیصلے کے خلاف اپیل رجسٹرار کورٹ آف اپیلز، اے جی برانچ کے ذریعے چیف آف آرمی اسٹاف کو ارسال کر دی گئی ہے، اپیل تو دائر کر دی گئی ہے تاہم اس مرحلے پر کیس کی مزید قانونی تفصیلات سامنے لانا مناسب نہیں سمجھا جا رہا۔
ضابطے کے مطابق اپیل کا ابتدائی جائزہ کورٹ آف اپیلز لیتی ہے، جس کی سربراہی ایک میجر جنرل یا اس سے اعلیٰ رینک کا افسر کرتا ہے، جسے آرمی چیف نامزد کرتے ہیں۔ ابتدائی جانچ کے بعد اپیل چیف آف آرمی اسٹاف کے سامنے پیش کی جاتی ہے، جنہیں سزا کی توثیق، اس میں ترمیم، نظرثانی یا اسے مکمل طور پر کالعدم قرار دینے کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ 11 دسمبر کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اپنے بیان میں اعلان کیا تھا کہ سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے ذریعے 14 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ان پر سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، ریاستی مفادات کو نقصان پہنچانے، اختیارات اور سرکاری وسائل کے غلط استعمال اور افراد کو غیر قانونی نقصان پہنچانے سمیت چار الزامات کے تحت مقدمہ چلایا گیا تھا۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق طویل اور مفصل عدالتی کارروائی کے بعد عدالت نے تمام الزامات ثابت ہونے پر سزا سنائی، جبکہ سماعت کے دوران ملزم کو اپنی پسند کی دفاعی ٹیم رکھنے سمیت تمام قانونی حقوق فراہم کیے گئے۔ آئی ایس پی آر نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجرم کو متعلقہ فورمز پر اپیل کا مکمل حق حاصل ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ سیاسی عناصر کے ساتھ مبینہ ملی بھگت، سیاسی اشتعال انگیزی اور عدم استحکام سے متعلق معاملات کو الگ قانونی دائرے میں دیکھا جا رہا ہے۔ فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا آغاز 12 اگست 2024 کو پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت ہوا تھا، جو تقریباً 15 ماہ تک جاری رہا۔
اب اپیل دائر ہونے کے بعد یہ معاملہ ایک نئے قانونی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جس پر آئندہ دنوں میں اہم پیش رفت سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فیض حمید کے مطابق آئی ایس کے خلاف گئی ہے کے بعد
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔