سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید نے سزا کیخلاف اپیل دائر کردی
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید نے ملٹری کورٹ سے سنائی گئی اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کردی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق فیض حمید کے وکیل نے فوجی عدالت سے سنائی سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کی تصدیق کی ہے۔
فیض حمید کے وکیل میاں علی اشفاق نے مزید تفصیلات دیے بغیر بتایا کہ ’ہم نے فوجی عدالت کی طرف سے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل دائر کردی ہے، اپیل رجسٹرار کورٹ آف اپیلز، اے جی برانچ، چیف آف آرمی اسٹاف کو جمع کرائی گئی۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان آرمی ایکٹ کے سیکشن 133B کے مطابق فیلڈ جنرل کورٹ مارشل (ایف جی سی ایم ) کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کے لیے فیض حمید کے پاس 40 دن کا وقت تھا۔
اپیل کا جائزہ سب سے پہلے کورٹ آف اپیلز کے ذریعے لیا جاتا ہے جس کی سربراہی ایک میجر جنرل یا اس سے اوپر کا افسر کرتا ہے جو آرمی چیف کی جانب سے نامزد کیا جاتا ہے، اس کے بعد آرمی چیف کے پاس سزا کی توثیق، اس پر نظر ثانی یا اسے منسوخ کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔
11 دسمبر کو آئی ایس پی آر نے بتایا تھا کہ ’سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو 14سال قید بامشقت کی سز ا سنادی گئی۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ ’ملزم پر سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے، ریاست کے تحفظ اور مفاد کے لیے نقصان دہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال اور لوگوں کو غلط طریقے سے نقصان پہنچانے سے متعلق چار الزامات کے تحت مقدمہ چلایا گیا۔
آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ طویل قانونی کارروائی کے بعد، ملزم کو تمام الزامات میں قصوروار پایا گیا، عدالت نے 14 سال قید کی سزا سنائی جو 11 دسمبر 2025 کو سنائی گئی۔
ترجمان پاک فوج نے کہا تھا کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے تمام قانونی دفعات کی تعمیل کی، ملزم کو اپنی پسند کی دفاعی ٹیم کے حقوق سمیت تمام قانونی حقوق فراہم کیے گئے تھے، مجرم کو متعلقہ فورم پر اپیل کا حق حاصل ہے۔
آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ سیاسی عناصر کے ساتھ مل کر سیاسی اشتعال انگیزی اور عدم استحکام کو ہوا دینے اور بعض دیگر معاملات میں مجرم کے ملوث ہونے سے الگ سے نمٹا جا رہا ہے، ملزم کے سیاسی عناصر کے ساتھ ملی بھگت، سیاسی افراتفری اور عدم استحکام کے معاملات الگ سے دیکھے جا رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ 12 اگست 2024 کو پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل شروع کیا گیا، فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے فیض حمید کو 14سال قیدبامشقت سنائی۔
ترجمان پاک فوج نے کہا تھا کہ سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل 12 اگست 2024 کو پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت شروع ہوا جو 15 ماہ تک جاری رہا۔
آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ طویل اور مفصل قانونی کارروائی کے بعد عدالت نے ملزم کو تمام الزامات میں قصوروار قرار دیتے ہوئے 14 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنادی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سری لنکا کیساتھ ٹی20 سیریز کیلیے اسکواڈ کا اعلان اہم کھلاڑی کی واپسی Dec 28 2025 09 20 AM فیلڈ جنرل کورٹ مارشل خلاف اپیل دائر نے کہا تھا کہ کے خلاف اپیل فیض حمید کے ئی ایس پی
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔