جسٹس خالد یوسف چودھری نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مظفرآباد (صباح نیوز) نو تعینات جج سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر جسٹس خالد یوسف چودھری نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر جسٹس راجا سعید اکرم خان نے جسٹس خالد یوسف چودھری سے حلف لیا۔ حلف برداری کی تقریب عدالت عظمیٰ آزادجموں وکشمیر میں منعقد ہوئی جس میں سینئر جج عدالت عظمیٰ جسٹس رضا علی خان، چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس سردار لیاقت حسین، جج ہائیکورٹ جسٹس خالد رشید چودھری، سابق سینئر جج عدالت عظمیٰ جسٹس خواجہ محمد نسیم، سابق جج عدالت عظمیٰ جسٹس غلام مصطفی مغل، سابق چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس صداقت حسین راجا، چیئرمین سروس ٹریبونل، چیئرمین انوائرمنٹل ٹریبونل، وائس چیئرمین بار کونسل طارق بشیر، صدر عدالت عظمیٰ بار ایسوسی ایشن راجا آفتاب احمد خان سمیت آزاد کشمیر کی تمام بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران و نمائندگان، سیکرٹریز حکومت سمیت آزادجموں وکشمیر بھر سے وکلاء نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عدالت عظمی جسٹس خالد
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔