ہم کسی کیلیے خطرہ نہیں:افغان وزیر داخلہ کا اسحاق ڈار اور علماکرام کے بیانات کا خیرمقدم
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251230-08-24
کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے وزیرِ داخلہ خلیفہ سراج الدین حقانی نے کابل اور اسلام آباد کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے حوالے سے پاکستانی علماء اور نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے حالیہ بیانات کا خیرمقدم کیا ہے۔ افغان ٹیلی ویژن چینل طلوع نیوز کے مطابق کابل میونسپلٹی اور دیگر اداروں کی کارکردگی کے اعتراف میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سراج الدین حقانی نے کہا کہ وہ ایسے تمام بیانات کو سراہتے ہیں جو دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوں۔ سراج الدین حقانی کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز ہی پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے افغانستان کے حوالے سے مثبت باتیں کیں، اور میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کسی کی جانب سے بھی خیرسگالی اور برادرانہ بیانات کا ہم خیرمقدم کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں پاکستان میں علماء کا ایک اجتماع ہوا، جس میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور مفتی تقی عثمانی نے افغانستان کے حق میں بیانات دیے، جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں، اسلامی امارات علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے پْرعزم ہے اور افغان عوام نہ کسی کے لیے خطرہ ہیں اور نہ ہی ایسا کوئی ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ہمارے اپنے ملک میں بے مثال امن و امان ہے تو ہم دنیا کے ساتھ بھی بھائی چارے اور امن کا پیغام بانٹتے ہیں، ہم اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک لوگوں کے خدشات دور کرنا چاہتے ہیں اور سب کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ افغان عوام کسی کے لیے خطرہ یا غلط ارادے نہیں رکھتے۔ وزیرِ داخلہ نے دیگر ممالک سے افغانستان کی تعمیر نو میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی اور افغان شہریوں سے بھی اس عمل میں اسلامی امارت کا ساتھ دینے کا مطالبہ کیا۔ خیال رہے کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ کہ پاکستان افغانستان کے لیے خیرسگالی رکھتا ہے اور نہیں چاہتا کہ افغان سرزمین اس کے خلاف استعمال ہو، اسحاق ڈار نے کابل میں علماء کے حالیہ اجتماع کی جانب سے جاری بیان کا بھی خیرمقدم کیا، جس میں افغانستان کی سرزمین کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ کرنے پر زور دیا گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: افغانستان کے اسحاق ڈار کے لیے
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔