data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251230-08-24
کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے وزیرِ داخلہ خلیفہ سراج الدین حقانی نے کابل اور اسلام آباد کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے حوالے سے پاکستانی علماء اور نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے حالیہ بیانات کا خیرمقدم کیا ہے۔ افغان ٹیلی ویژن چینل طلوع نیوز کے مطابق کابل میونسپلٹی اور دیگر اداروں کی کارکردگی کے اعتراف میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سراج الدین حقانی نے کہا کہ وہ ایسے تمام بیانات کو سراہتے ہیں جو دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوں۔ سراج الدین حقانی کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز ہی پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے افغانستان کے حوالے سے مثبت باتیں کیں، اور میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کسی کی جانب سے بھی خیرسگالی اور برادرانہ بیانات کا ہم خیرمقدم کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں پاکستان میں علماء کا ایک اجتماع ہوا، جس میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور مفتی تقی عثمانی نے افغانستان کے حق میں بیانات دیے، جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں، اسلامی امارات علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے پْرعزم ہے اور افغان عوام نہ کسی کے لیے خطرہ ہیں اور نہ ہی ایسا کوئی ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ہمارے اپنے ملک میں بے مثال امن و امان ہے تو ہم دنیا کے ساتھ بھی بھائی چارے اور امن کا پیغام بانٹتے ہیں، ہم اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک لوگوں کے خدشات دور کرنا چاہتے ہیں اور سب کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ افغان عوام کسی کے لیے خطرہ یا غلط ارادے نہیں رکھتے۔ وزیرِ داخلہ نے دیگر ممالک سے افغانستان کی تعمیر نو میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی اور افغان شہریوں سے بھی اس عمل میں اسلامی امارت کا ساتھ دینے کا مطالبہ کیا۔ خیال رہے کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ کہ پاکستان افغانستان کے لیے خیرسگالی رکھتا ہے اور نہیں چاہتا کہ افغان سرزمین اس کے خلاف استعمال ہو، اسحاق ڈار نے کابل میں علماء کے حالیہ اجتماع کی جانب سے جاری بیان کا بھی خیرمقدم کیا، جس میں افغانستان کی سرزمین کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ کرنے پر زور دیا گیا تھا۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: افغانستان کے اسحاق ڈار کے لیے

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی