18 ویں ترمیم کے بعد سندھ میں صحت کے شعبے میں نمایاں بہتری آئی‘ بلاول
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاڑکانہ (مانیٹرنگ ڈیسک)چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری نے کہا ہے کہ 18 ویں ترمیم کے بعد سندھ میں صحت کے شعبے میں نمایاں بہتری آئی ہے۔لاڑکانہ میں شہید بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، لاڑکانہ ایک شہر نہیں بلکہ ناانصافی کے خلاف مزاحمت کی علامت بھی ہے، آپ نے بلاتفریق انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنانا ہے، کسی بھی وبا کے وقت ڈاکٹروں اور نرسز نے ہر اول دستے کا کردارادا کیا ہے۔بلاول کے بقول ہماری ترجیح ہیلتھ کیئر سسٹم کو ٹھیک کرنے کے لیے رہی، 18ویں ترمیم کے بعد صحت کے شعبے میں بہت سرمایہ کاری کی، ہم شعبہ صحت میں کسی صوبے سے نہیں بلکہ دنیا سے مقابلہ کر رہے ہیں، ہمارے صوبے میں دل کا مفت علاج ہو رہا ہے، کراچی، نوابشاہ، جامشورو، سکھر اور لاڑکانہ میں صحت کی سہولیات پہنچائیں۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ چائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت سندھ کے تمام ڈسٹرکٹ میں بچوں کے لیے ایمرجنسی رومز کھولے، پاکستان کے تمام بڑے شہروں کے اسپتال گمبٹ کے اسپتال کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ان کا کہنا تھا کہ جس ڈسٹرکٹس میں نہیں پہنچے وہاں بھی صحت کی سہولیات فراہم کریں گے، چاہیں گے باقی ادارے بھی اچھی کارکردگی دکھائیں، پاکستان سے پہلے سندھ میں صرف ایک یونیورسٹی تھی، 1947ء سے لے کر 2008ء تک صوبے میں 16 یونیورسٹیاں تھیں، آج صوبہ سندھ میں 30 یونیورسٹیاں قائم کیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہماری کوشش ہے سندھ کے ہر ڈسٹرکٹ میں ایک یونیورسٹی قائم ہو، پسماندہ علاقوں میں بھی تعلیم کا حصول ممکن ہو۔
لاڑکانہ: پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری شہید بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے کانووکیشن سے خطاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔